اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 445 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 445

اصحاب بدر جلد 2 445 حضرت ابو بکر صدیق دیتا مگر میں نے اس خیال سے ہاتھ نہ اٹھایا کہ آپ میرے باپ ہیں۔ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے میں نے تجھے اس وقت دیکھا نہیں اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو چونکہ تو خدا کا دشمن ہو کر میدان میں آیا تھا اِس لئے میں تجھے ضرور مار دیتا۔1033 حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تھا جس کی فطرت میں سعادت کا تیل اور بیٹی پہلے سے موجود تھے۔“ یعنی اس میں چلنے کی صلاحیت تھی، روشن ہونے کی صلاحیت تھی۔” اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم نے اس کو فی الفور متاثر کر کے روشن کر دیا۔اس نے آپ سے کوئی بحث نہیں کی۔کوئی نشان اور معجزہ نہ مانگا۔معاسن کر صرف اتنا ہی پوچھا کہ کیا آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں۔تو بول اٹھے کہ آپ گواہ رہیں۔میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ سوال کرنے والے بہت کم ہدایت پاتے ہیں۔ہان حسن ظن اور صبر سے کام لینے والے ہدایت سے پورے طور پر حصہ لیتے ہیں۔اس کا نمونہ ابو بکر اور ابو جہل دونوں موجود ہیں۔ابو بکڑ نے جھگڑا نہ کیا اور نشان نہ مانگے۔مگر اس کو وہ دیا گیا جو نشان مانگنے والوں کو نہ ملا۔اس نے نشان پر نشان دیکھے۔اور خود ایک عظیم الشان نشان بنا۔ابو جہل نے حجت کی اور مخالفت اور جہالت سے باز نہ آیا۔اس نے نشان پر نشان دیکھے مگر دیکھ نہ سکا۔آخر خود دوسروں کے لئے نشان ہو کر مخالفت ہی میں ہلاک ہوا۔1034 کمال دو قسم کے ہوتے ہیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مکہ کی مٹی ایک ہی تھی جس سے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو جہل پیدا ہوئے۔مکہ وہی مکہ ہے جہاں اب کروڑوں انسان ہر طبقہ اور ہر درجہ کے دنیا کے ہر حصہ سے جمع ہوتے ہیں۔اسی سر زمین سے یہ دونو انسان پیدا ہوئے۔جن میں سے اول الذکر اپنی سعادت اور رشد کی وجہ سے ہدایت پاکر صدیقوں کا کمال پا گیا۔اور دوسرا شرارت، جہالت، بے جا عداوت اور حق کی مخالفت میں شہرت یافتہ ہے۔یاد رکھو! اکمال دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک رحمانی، دوسرا شیطانی رحمانی کمال کے آدمی آسمان پر ایک شہرت اور عزت پاتے ہیں۔اسی طرح شیطانی کمال کے آدمی شیاطین کی ذریت میں شہرت رکھتے ہیں۔غرض ایک ہی جگہ دونو تھے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کچھ فرق نہیں کیا۔جو کچھ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا وہ سب کا سب یکساں طور پر سب کو پہنچا دیا۔مگر بد نصیب بد قسمت محروم رہ گئے۔اور سعید ہدایت پاکر کامل ہو گئے۔ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے بیسیوں نشان دیکھے۔انوار و برکاتِ الہیہ کو مشاہدہ کیا۔مگر اُن کو کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔“1035