اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 444
اصحاب بدر جلد 2 444 حضرت ابو بکر صدیق مگر وہ فخر کرنے والا یزید جو اپنے آپ کو بادشاہ ابنِ بادشاہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا تھا جب فوت ہوا تو لوگوں نے اس کے بیٹے کو اس کی جگہ بادشاہ بنادیا۔جمعہ کا دن آیا تو وہ منبر پر کھڑا ہوا اور کہا کہ اے لوگو ! میرا دادا اُس وقت بادشاہ بنا جب اُس سے زیادہ بادشاہت کے مستحق لوگ موجود تھے۔میرا باپ اس وقت بادشاہ بنا جب اُس سے زیادہ مستحق لوگ موجود تھے۔اب مجھے بادشاہ بنا دیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے زیادہ مستحق لوگ موجود ہیں۔اے لوگو! مجھ سے یہ بوجھ اٹھایا نہیں جاتا۔میرے باپ اور میرے دادا نے مستحقین کے حق مارے ہیں لیکن میں اُن کے حق مارنے کو تیار نہیں۔تمہاری خلافت یہ پڑی ہے جس کو چاہو دے دو۔میں نہ اس کا اہل ہوں اور نہ اپنے باپ دادا کو اس کا اہل سمجھتا ہوں۔انہوں نے جابرانہ اور ظالمانہ طور پر حکومت پر قبضہ کیا تھا۔میں اب حقداروں کو ان کا حق واپس دینا چاہتا ہوں۔یہ کہہ کر گھر چلا گیا۔اس کی ماں نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا۔کمبخت !تو نے اپنے باپ دادا کی ناک کاٹ دی۔اس نے جواب دیا۔ماں! اگر خدا تعالیٰ نے تجھے عقل دی ہوتی تو تو سمجھتی کہ میں نے باپ دادا کی ناک نہیں کائی۔میں نے ان کی ناک جوڑ دی ہے۔اس کے بعد وہ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو کر بیٹھ گیا اور مرتے دم تک گھر سے باہر نہیں نکلا۔“1031 پس یہ بادشاہت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اس کا حق بھی ادا کیا جاتا ہے۔یہ بھی ہمارے مسلمان لیڈروں کے لیے، بادشاہوں کے لیے سبق ہے۔حضرت مصلح موعودؓ پھر بیان فرماتے ہیں : ” اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو عظمت حاصل ہے وہ کیا دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل ہے ؟ آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر کو حاصل ہے بلکہ حضرت ابو بکر تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی اتنی عظمت حاصل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک حضرت ابو بکر کے نوکروں کو حاصل ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ ہمیں حضرت ابو بکر کا کتا بھی بڑی بڑی عزتوں والوں سے اچھا لگتا ہے۔اس لئے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا خادم ہو گیا۔فرماتے ہیں: ”وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا غلام ہو گیا تو اس کی ہر چیز ہمیں پیاری لگنے لگ گئی اور اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے۔“ 1032 ہمارے پہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں لیکن ہمارے یہ خیالات ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے جو دیر کے بعد اسلام میں داخل ہوئے تھے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے مختلف باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ باتوں باتوں میں حضرت ابو بکر سے کہنے لگے ابا جان ! فلاں جنگ کے موقع پر میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔آپ میرے سامنے سے دو دفعہ گزرے۔میں اگر اس وقت چاہتا تو آپ کو مار