اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 441

حاب بدر جلد 2 441 حضرت ابو بکر صدیق اتباع سے ابو بکر کو وہ مقام ملاتو آج ساری دنیا اُن کا ادب اور احترام کے ساتھ نام لیتی ہے۔جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور حضرت ابو بکر کو مسلمانوں نے اپنا خلیفہ اور بادشاہ بنا لیا تو مکہ میں بھی یہ خبر جا پہنچی۔ایک مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے تھے جن میں حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ بھی موجود تھے۔جب انہوں نے سنا کہ ابو بکر کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی ہے تو ان کے لئے اس امر کو تسلیم کرنانا ممکن ہو گیا اور انہوں نے خبر دینے والے سے پوچھا کہ تم کس ابو بکر کا ذکر کر رہے ہو ؟ اس نے کہا۔وہی ابو بکر جو تمہارا بیٹا ہے۔انہوں نے “، ان کے والد نے، حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ نے عرب کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر کہنا شروع کر دیا کہ اس نے بھی ابو بکر کی بیعت کر لی ہے ؟“ پھر پوچھنا شروع کیا کہ یہ جو بڑے بڑے قبائل ہیں کیا انہوں نے ابو بکر کی بیعت کر لی ہے ؟ ہر ایک کا نام لے لے کر پوچھا۔” اور جب اس نے کہا کہ سب نے متفقہ طور پر ابو بکر کو خلیفہ اور بادشاہ بنا لیا ہے تو ابو قحافہ بے اختیار کہنے لگے کہ اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ اس کے سچے رسول ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ ”حالانکہ وہ دیر سے مسلمان تھے۔“ ابو قحافہ فتح مکہ کے بعد یا شاید اس سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔انہوں نے جو یہ کلمہ پڑھا۔اور دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا تو اسی لئے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سمجھا کہ یہ اسلام کی سچائی کا ایک زبر دست ثبوت ہے 1029❝ ورنہ میرے بیٹے کی کیا حیثیت تھی کہ اس کے ہاتھ پر سارا عرب متحد ہو جاتا۔1028 پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لو۔انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ملکہ کا ایک لیڈر تھا اب ذلیل ہو گیا مگر اسلام سے پہلے اُن کی اِس سے زیادہ کیا عزت ہو سکتی تھی کہ دو سویا تین سو آدمی ان کا نام عزت سے لیتے ہوں گے۔لیکن اسلام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں خلافت اور بادشاہت کی برکت سے نوازا۔اور انہیں دنیا بھر میں دائمی عزت اور ایک لازوال شہرت کا مالک بنا دیا۔کہاں ایک قبیلہ کی لیڈری اور کہاں یہ کہ تمام مسلمانوں کا خلیفہ اور مملکت عرب کا بادشاہ ہونا جس نے ایران اور روم سے ٹکر لی اور انہیں نیچادکھایا۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ”دیکھو بادشاہت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ہی نہیں آپ کے خادموں کے قدموں پر بھی آگری لیکن آپ نے نہ اُس وقت خواہش کی جب آپ کو ابھی بادشاہت نہیں ملی تھی اور نہ اس وقت بادشاہت کی خواہش کی جب آپ کو بادشاہت مل گئی۔نہ حضرت ابو بکر نے بادشاہت کی خواہش کی، نہ حضرت عمرؓ نے بادشاہت کی خواہش کی ، نہ حضرت عثمان نے بادشاہت کی خواہش کی اور نہ حضرت علی نے بادشاہت کی خواہش کی بلکہ ان میں بادشاہت کے آثار پائے ہی نہیں جاتے تھے حالانکہ وہ دنیا کے اتنے زبر دست بادشاہ تھے جن کی تاریخ میں مثال ہی نہیں