اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 428
حاب بدر جلد 2 428 حضرت ابو بکر صدیق اور بغیر کسی طاقت کے تھے۔مکہ کے مسلح لوگ آپ کے تعاقب میں غارِ ثور پر پہنچے اور ان میں سے بعض نے اصرار کیا کہ ہمیں جھک کر اندر بھی ایک دفعہ دیکھ لینا چاہئے تا کہ اگر وہ اندر ہوں تو ہم ان کو پکڑ سکیں۔دشمن کو اتنا قریب دیکھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ ! دشمن تو سر پر پہنچ گیا ہے۔آپ نے اس وقت بڑے جوش سے فرما یالَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ابو بکر ڈرتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے۔دیکھو گھبراہٹ کے لحاظ سے کتنی انتہائی چیز اس وقت آپ کے سامنے آئی اور اس واقعہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل یا آپ کی گرفتاری میں کون سی کسر باقی رہ گئی تھی۔مگر باوجود اس کے کہ دشمن طاقتور تھا، سپاہی اس کے ساتھ تھے ، ہتھیار اس کے پاس موجود تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل نہتے صرف ایک ساتھی کے ساتھ غار میں بیٹھے تھے۔نہ ہتھیار آپ کے پاس تھا نہ حکومت آپ کی تائید میں تھی۔نہ کوئی جتھا آپ کے پاس تھا۔آپ کثیر التعداد دشمن کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنے کے باوجود فرماتے ہیں لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا تم کیوں یہ کہتے ہو کہ دشمن طاقتور ہے۔کیا وہ خدا سے بھی زیادہ طاقتور ہے؟ جب خدا ہمارے ساتھ ہے تو ہمارے لئے گھبراہٹ کی کون سی وجہ ہے۔حضرت ابو بکر کی یہ گھبراہٹ بھی اپنے لئے نہیں تھی بلکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ” بعض شیعہ لوگ اس واقعہ کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ ابو بکر نعوذ باللہ بے ایمان تھا۔وہ اپنی جان دینے سے ڈر گیا۔حالانکہ تاریخوں میں صاف لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یالا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا تو حضرت ابو بکر نے کہا یارسول اللہ میں اپنی جان کے لئے تو نہیں ڈرتا۔میں اگر مارا گیا تو صرف ایک آدمی مارا جائے گا۔میں تو آپ کے لئے ڈرتا ہوں۔کیونکہ اگر آپ کو نقصان پہنچا تو صداقت دنیا سے مٹ جائے گی۔“ 1000 خدا کی قسم! جتنی دلیلیں میں نے سوچی تھیں وہ سب کی سب حضرت ابو بکڑ نے بیان کر دیں پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات انبیاء سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان سے اتر کر بھی اپنے اپنے زمانے میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ جو کام انہوں نے اس وقت کیا وہ ان کا غیر نہیں کر سکتا تھا۔مثلاً حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کو لے لو۔حضرت ابو بکر کے متعلق کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ بھی کسی وقت اپنی قوم کی قیادت کریں گے۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ آپ کمزور طبیعت، صلح کل اور نرم دل واقع ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی جنگوں کو دیکھ لو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑی جنگ میں بھی حضرت ابو بکر کو فوج کا کمانڈر نہیں بنایا۔بے شک بعض چھوٹے چھوٹے غزوات ایسے ہیں جن میں آپ کو افسر بنا کر بھیجا گیا مگر بڑی جنگوں میں