اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 420
اصحاب بدر جلد 2 420 حضرت ابو بکر صدیق اعلان کر دو کہ جنت میں کوئی کافر داخل نہیں ہو گا اور اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔نہ ہی کسی کو ننگے بدن بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی اور جس کسی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معاہدہ کیا ہے اس کی مدت پوری کی جائے گی۔حضرت علی اس فرمان کے ساتھ روانہ ہوئے۔راستے میں حضرت ابو بکر سے جاملے۔جب حضرت ابو بکر نے حضرت علی کو راستے میں دیکھا یا ملے تو حضرت ابو بکر نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ کو امیر مقرر کیا گیا ہے یا آپ میرے ماتحت ہوں گے ؟ حضرت علی نے کہا کہ آپ کے ماتحت۔پھر دونوں روانہ ہو گئے۔آپ کے ماتحت ہوں گا لیکن یہ آیات جو ہیں وہ میں پڑھوں گا۔بہر حال حضرت ابو بکڑ نے لوگوں کی حج کے امور پر نگرانی کی اور اس سال اہل عرب نے اپنی انہی جگہوں پر پڑاؤ کیا ہوا تھا جہاں وہ زمانہ جاہلیت میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔جب قربانی کا دن آیا تو حضرت علی کھڑے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق لوگوں میں اس بات کا اعلان کیا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کی تفصیل میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔982 حضرت ابو بکر قریش کے بہترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے ان کی خدمتِ خلق اور محتاجوں کو کھانا کھلانے وغیرہ کے بارے میں ملتا ہے کہ اسلام قبول کرنے سے قبل بھی حضرت ابو بکر قریش کے بہترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے اور لوگوں کو جو بھی مشکل پیش آتی تھی اُن میں وہ لوگ اُن سے مدد لیا کرتے تھے۔مکہ میں وہ اکثر مہمان نوازی کرتے اور بڑی بڑی 983 دعوتیں کیا کرتے تھے۔دورِ جاہلیت میں حضرت ابو بکرؓ کو قریش کے سرداروں اور ان کے اشراف و معزز لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا۔حضرت ابو بکر کو اس معاشرے میں شرفائے قریش میں شمار کیا جاتا تھا، افضل ترین لوگوں میں شمار ہو تا تھا۔لوگ اپنے مسائل و معاملات میں ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔مکہ میں ضیافت و مہمان نوازی میں انفرادی حیثیت کے مالک تھے۔984 پھر لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر غریبوں اور مسکینوں پر بے حد مہربان تھے۔سردیوں میں کمبل خریدتے اور انہیں محتاجوں میں تقسیم کر دیتے۔985 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے ایک سال گرم اونی چادر میں خریدیں یعنی کمبل جو دیہات سے لائی گئی تھیں اور سردی کے موسم میں مدینہ کی بیوہ عورتوں میں یہ چادریں تقسیم کی 986 بکریوں کا دودھ دوہا کرتے تھے ایک روایت ہے کہ خلافت کے منصب پر متمکن ہونے سے پہلے آپ ایک لاوارث کنبہ کی