اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 417

صحاب بدر جلد 2 417 حضرت ابو بکر صدیق تو نورِ نبوت اور نورِ الوہیت کا ضائع ہونا ہے۔پس وہ اس نور کو ضرور قائم کرے گا اور نبوت کے بعد بادشاہت ہر گز قائم نہیں ہونے دے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں سے ایک نہیں متعد دلوگوں کو خلافت پر قائم کر کے نور کے زمانہ کو لمبا کر دے گا۔یہ مضمون ایسا ہی ہے جیسے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں کہ جس کا جی چاہے پی لے۔اسی طرح فرمایا تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگاؤ نہ تم خلافت کو مٹا سکتے ہو نہ ابو بکر و خلافت سے محروم کر سکتے ہو کیونکہ خلافت ایک نور ہے۔وہ نور اللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹا سکتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ اسی طرح خلافت کا یہ نور چند اور گھروں میں بھی پایا جاتا ہے اور کوئی انسان اپنی کوششوں اور اپنے مگروں سے اس نور کے ظہور کو روک نہیں سکتا۔974 بہر حال یہ خلافت کے بارے میں ایک مضمون ہے۔اس پہ آپ نے خطبہ دیا تھا۔اس سے ( پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت ابو بکر کا ایک مقام تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی جو فعلی شہادت تھی اس سے بھی ثابت ہو گیا کہ نبوت کے فوراً بعد جو خلافت کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق جاری رہنا تھا وہ جاری رہا اور اس کے بعد اگر بادشاہت آئی تو وہ بعد کی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے وہ نظام (اب) پھر قائم ہوا۔پھر حضرت ابو بکر کے انکسار اور تواضع کے بارے میں آتا ہے۔حضرت سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ہمراہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص حضرت ابو بکر کے ساتھ جھگڑ پڑا اور آپ کو تکلیف پہنچائی۔اس پر حضرت ابو بکر خاموش رہے۔اس نے دوسری مرتبہ تکلیف پہنچائی جس پر حضرت ابو بکر پھر خاموش رہے۔اس نے تیسری مرتبہ تکلیف دی تو حضرت ابو بکر نے بدلہ لیا۔جب حضرت ابو بکر نے بدلہ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ؟ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آسمان سے ایک فرشتہ اترا جو اس بات کی تکذیب کر رہا تھا جو وہ تیری نسبت بیان کر رہا تھا۔جب تو نے بدلہ لیا تو شیطان آگیا اور میں اس مجلس میں نہیں بیٹھنے والا جس میں شیطان پڑ گیا ہو۔975 پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر ! تین باتیں ہیں جو سب بر حق ہیں۔کسی بندے پر کسی چیز کے ذریعہ ظلم کیا جائے اور وہ محض اللہ عزوجل کی خاطر اس سے چشم پوشی کرے تو اللہ اسے اپنی نصرت کے ذریعہ سے معزز بنا دیتا ہے۔وہ شخص جو کسی عطیے کا دروازہ کھولے جس کے ذریعہ اس کا ارادہ صلہ رحمی کرنے کا ہو تو اللہ اس کے ذریعہ اسے مال کی کثرت میں بڑھا دیتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ وہ شخص جو سوال کا دروازہ کھولے جس کے ذریعہ اس کا ارادہ مال کی کثرت کا ہو تو اللہ اسے اس کے ذریعہ رض