اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 394 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 394

محاب بدر جلد 2 394 حضرت ابو بکر صدیق ذرا تھے تولوگوں نے آپ سے رونے کا سبب پوچھا کہ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ رونا کیسا ہے۔آخر کس چیز نے آپ کو رلایا۔حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے کپڑے کے کنارے سے آنسو پونچھتے ہوئے اور اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کے ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ سے کچھ چیز دور کر رہے ہیں لیکن وہ چیز مجھے نظر نہیں آرہی تھی۔آپ کمزور آواز میں فرما رہے تھے کہ مجھ سے دُور ہو جاؤ، مجھ سے دُور ہو جاؤ۔میں نے ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نظر نہیں آیا۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کسی چیز کو اپنے سے ہٹا رہے تھے جبکہ آپ کے پاس کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ در حقیقت دنیا تھی جو اپنی تمام آرائش و نعمت کے ساتھ میرے سامنے آئی تھی۔میں نے اس سے کہا تھا کہ دُور ہو جاؤ۔ایک کشفی کیفیت آپ پر طاری ہوئی تھی۔پس وہ یہ کہتی ہوئی دور ہو گئی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چھٹکارا پا لیا تو کیا ہوا۔جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئیں گے وہ مجھ سے کبھی نہیں بچ سکیں گے۔حضرت ابو بکر صدیق نے پریشانی میں اپنا سر ہلایا اور غمزدہ آواز میں فرمایا لوگو مجھے بھی اس شہد سے ملے پانی کی وجہ سے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں اس دنیا نے مجھے آگھیرا نہ ہو اس لیے میں سسکیاں بھر کر رویا۔1918 تنی خشیت تھی اللہ تعالیٰ کی۔فتوحات عراق میں ایک قیمتی چادر حاصل ہوئی۔حضرت خالد نے اہل لشکر کے مشورہ سے اس چادر کو حضرت ابو بکر صدیق کے پاس بطور تحفہ بھجوایا اور لکھا کہ اسے آپ لے لیجیے۔آپ کے لیے روانہ کیا جارہا ہے لیکن حضرت ابو بکر نے اسے لینا گوارا نہیں فرمایا اور نہ اپنے رشتہ داروں کو دیا بلکہ اسے حضرت امام حسین کو مرحمت فرما دیا۔919 حضرت ابو بکر صدیق کا مقام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بارے میں کیا سمجھتے تھے یا آپ کو کیا مقام دیتے تھے اس بارے میں بعض روایات ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق کو یہ سعادت اور فضیلت حاصل ہے کہ مکی دور میں حضرت ابو بکر کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ ایک دو دفعہ تشریف لے جاتے تھے۔920 حضرت عمر و بن عاص نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذات السلاسل کی فوج پر سپہ سالار مقرر کر کے بھیجا اور کہتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔میں نے کہا لوگوں میں سے کون آپ کو زیادہ پیارا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا عائشہ میں نے کہامر دوں میں سے؟ آپ نے فرمایا ان کا باپ۔میں نے کہا پھر کون؟ آپ نے فرمایا پھر عمر بن خطاب اور آپ نے اسی طرح چند مردوں کو شمار کیا۔921