اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 395
حاب بدر جلد 2 395 حضرت ابو بکر صدیق 922 حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر سب لوگوں سے افضل اور بہتر ہے سوائے اس کے کہ کوئی نبی ہو۔حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اُمت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان اور رحم کرنے والا ابو بکر ہے۔923 حضرت ابوسعید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یابلند درجات والے جو اُن کے نیچے والے ہیں وہ ان کو دیکھیں گے جس طرح تم طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو یعنی بلند درجات والے ایسے بلند درجہ پر ہوں گے کہ جو نیچے درجے کے ہوں گے وہ ان کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم طلوع ہونے والے ستارے کو آسمان کی طرف دیکھتے ہو ، آسمان کے افق میں دیکھتے ہو۔اور ابو بکر و عمران میں سے ہیں۔یعنی وہ بلند ہیں۔ان کو لوگ اس طرح دیکھیں گے جس طرح بلند ستارے کو دیکھا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا اور وہ دونوں کیا ہی خوب ہیں۔حضرت ابوہریرہ نے بیان کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی کا ہم پر کوئی احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا سوائے ابو بکر کے۔اس کا ہم پر احسان ہے اور اس کو اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دے گا۔925 924 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں فرمایا: لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں جو بلحاظ اپنی جان اور مال سے مجھ پر ابو بکر بن ابو قحافہ سے بڑھ کر نیک سلوک کرنے والا ہو۔اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابو بکر کو ہی خلیل بناتا لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے۔اس مسجد میں تمام کھڑکیوں کو میری طرف سے بند کر دو سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔926 یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا۔ابو بکر مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ابو بکر دنیاو آخرت میں میرے بھائی ہیں۔927 سنن ترمذی کی روایت یہ ہے کہ : حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا یہ دونوں سردار ہیں اہل جنت کے۔اہل جنت کے بڑی عمر والوں کے پہلوں میں سے اور آخرین میں سے سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔اے علی ! ان دونوں کو نہ بتانا۔928 راوی کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ روایت کی تو حضرت علی کو بتانے سے روک دیا۔حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس باہر تشریف لاتے اور بیٹھے ہوتے اور ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ہوتے۔تو ان میں سے کوئی بھی اپنی نظر آپ کی طرف نہ اٹھاتا سوائے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے۔وہ دونوں آپ کی طرف دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھتے اور وہ آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور