اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 378

اصحاب بدر جلد 2 378 حضرت ابو بکر صدیق اور کوئی قراءت نہیں پڑھنی۔یہ بات جو حضرت عثمان نے کی بالکل معیوب نہ تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب لوگ قبائلی زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ سے الگ رہتا تھا اس لیے وہ اپنی اپنی بولی کے عادی تھے۔یعنی اپنا اپنا ان کا بولنے کا انداز تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جمع ہو کر عرب لوگ متمدن ہو گئے اور ایک عامی زبان کی بجائے عربی زبان ایک علمی زبان بن گئی۔کثرت سے عرب کے لوگ پڑھنے اور لکھنے کے علم سے واقف ہو گئے جس کی وجہ سے ہر آدمی خواہ کسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اسی سہولت سے وہ لفظ ادا کر سکتا تھا جس طرح علمی زبان میں وہ لفظ بولا جاتا تھا جو در حقیقت ملک کی زبان تھی۔پس کوئی وجہ نہ تھی کہ جب سارے لوگ ایک علمی زبان کے عادی ہو چکے تھے انہیں پھر بھی اجازت دی جاتی کہ وہ اپنے قبائلی تلفظ کے ساتھ ہی قرآن شریف کو پڑھتے چلے جائیں اور غیر قوموں کے لیے ٹھوکر کا موجب بنیں۔اس لیے حضرت عثمان نے ان حرکات کے ساتھ قرآن شریف کو لکھ کر جو مکہ کی زبان کے مطابق تھا سب ملکوں میں کاپیاں تقسیم کر دیں اور آئندہ کے متعلق حکم دے دیا کہ سوائے مکی لہجہ کے اور کسی قبائلی لہجہ میں قرآن شریف نہ پڑھا جائے۔اس امر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورپ کے مصنف اور دوسری قوموں کے مصنف ہمیشہ یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے کوئی نیا قرآن بنادیا تھا یا عثمان نے کوئی نئی تبدیلی قرآن کریم میں کر دی نیا تھی لیکن حقیقت وہ ہے جو بیان کی گئی ہے۔877 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” قرآن بلا شبہ وحی متلو ہے اور پورے کا پورا یہاں تک کہ نقطے اور حروف بھی قطعی متواتر ہیں اور اللہ نے اسے کمال اہتمام کے ساتھ فرشتوں کی حفاظت میں نازل فرمایا ہے۔پھر اس کے بارے میں تمام قسم کے اہتمام کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا اور آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ایک آیت جیسے وہ (قرآن) نازل ہوتا رہا لکھنے پر مداومت فرمائی۔یہاں تک کہ آپ نے اسے مکمل طور پر جمع فرمایا اور بنفس نفیس آیات کو ترتیب دیا اور انہیں جمع کیا اور نماز میں اور نماز سے باہر اس کی تلاوت پر مداومت فرمائی۔یہاں تک کہ آپ دنیا سے رحلت فرما گئے اور اپنے رفیق اعلیٰ اور محبوب رب العالمین سے جاملے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”پھر اس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تمام سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ترتیب کے مطابق جمع کرنے کا اہتمام فرمایا۔پھر (حضرت) ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد اللہ نے خلیفہ ثالث ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کو توفیق عطا فرمائی تو آپ نے لغت قریش کے مطابق قرآن کو ایک قراءت پر جمع کیا اور اسے تمام ملکوں میں پھیلا دیا۔878 یہ سوال ہے کہ صحیفہ صدیقی جو حضرت ابو بکر صدیق نے لکھوایا تھا، کب تک محفوظ رہا اس بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت زید بن ثابت کے ذریعہ جس قرآن کریم کو ایک