اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 364
صحاب بدر جلد 2 364 حضرت ابو بکر صدیق ہوئیں۔وفات کے وقت حضرت ابو بکر نے حضرت عائشہ سے فرمایا یہ تمہارے دونوں بھائی اور دونوں بہنیں ہیں۔حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میری بہن اسماء ہیں انہیں تو میں جانتی ہوں مگر میری دوسری بہن کون ہے ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا جو خارجہ کی بیٹی کے بطن میں ہے۔یعنی ابھی پیدا نہیں ہوئی، جو پید اہونے والی ہے وہ بیٹی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ان کے ہاں لڑکی ہو گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد ام کلثوم کی ولادت ہوئی۔ام کلثوم کی شادی حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے ہوئی جو جنگ جمل میں شہید ہوئے۔836 بعض روایات کے مطابق حضرت ابو بکر کی ایک بیٹی کی شادی حضرت بلال سے ہوئی تھی اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بیٹی آپ کی چار بیویوں میں سے کسی بیوی کے پہلے خاوند سے تھی۔837 نظام حکومت کے بارے میں کہ کس طرح آپ نظام حکومت چلاتے تھے لکھا ہے کہ جب حضرت ابو بکر کو کوئی امر پیش آتا تو پھر جہاں مشورے کی ضرورت ہوتی اور اہل الرائے لوگوں کی ضرورت ہوتی، اہل فقہ کا مشورہ لینا چاہتے تو آپ مہاجرین و انصار میں سے حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت کو بھی بلاتے۔838 یا بعض اوقات زیادہ تعداد میں مہاجرین اور انصار کو جمع فرماتے۔حضرت مصلح موعودؓ شاور ھم (آل عمران :160) کی تشریح کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ : اس ایک لفظ پر غور کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہر حال تین یا تین سے زیادہ ہوں۔پھر وہ اس مشورے پر پر غور کرے۔پھر حکم ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله۔(آل عمران:160) جس بات پر عزم کرے اس کو پورا کرے اور کسی کی پروانہ کرے۔یعنی مشورہ لینے والا مشورہ لے، اس کے بعد، مشورہ لینے کے بعد سارا تجزیہ کر کے اس پر پر عمل کرے اور پھر کسی کی پروانہ کرے۔آپ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کے زمانے میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہ کے زیر کمان جانے والا تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کر سکتا۔ابو قحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔پھر بعض کو رکھ بھی لیا۔چنانچہ حضرت عمر بھی اس لشکر میں جارہے تھے ان کو روک لیا۔پھر ز کوۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لیے ان کو معاف کر دو۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ صلی علی یم کو اونٹ باندھنے کی ایک رستی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا ان