اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 363

ناب بدر جلد 2 363 حضرت ابو بکر صدیق ابو بکر کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔آپ حدیبیہ کے دن مسلمان ہوئے اور پھر اسلام پر ثابت قدم رہے۔آپ کو رسول اللہ صلی للی علم کی صحبت حاصل رہی۔آپ شجاعت اور بہادری میں بہت مشہور تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کا قابل تعریف موقف رہا۔دوسرے حضرت عبد اللہ بن ابو بکر تھے۔آپ کا رسول اللہ صلی علیکم کی ہجرت مدینہ کے موقع پر اہم کردار تھا۔آپ تمام دن مکہ میں گزارتے اور مکہ والوں کی خبریں جمع کرتے اور پھر رات کے وقت چپکے سے غار میں پہنچ کر وہ خبریں رسول اللہ صلی علیہ کم اور حضرت ابو بکر کو سناتے اور صبح کے وقت واپس مکہ میں آجاتے۔طائف کی جنگ میں آپ کو ایک تیر لگا جس کا زخم ٹھیک نہ ہوا اور آخر کار اسی کی وجہ سے حضرت ابو بکر کی خلافت میں آپ نے شہادت پائی۔محمد بن ابو بکر تیسرے بیٹے تھے۔آپ حضرت اسماء بنت عمیس کے بطن سے پیدا ہوئے۔جمعۃ الوداع کے موقع پر ذوالحلیفہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔حضرت علی کی گود میں آپ نے پرورش پائی اور حضرت علیؓ نے اپنے دور میں آپ کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔آپ وہیں مارے گئے۔بعض روایات میں حضرت عثمان کو قتل کرنے والوں میں ان کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا۔واللہ اعلم۔آپ کے بچوں میں سے چوتھی حضرت اسماء بنت ابو بکر ہیں۔آپ ذات النطاقین کے نام سے مشہور ہیں۔آپ حضرت عائشہ سے عمر میں بڑی تھیں۔رسول اللہ صلی علیم نے آپ کو ذات النطاقین کے لقب سے نوازا تھا کیونکہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رسول اللہ صلی علی کم اور اپنے والد کے لیے توشہ تیار کیا اور پھر اس کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو اپنے کمر بند کو پھاڑ کر تو شہ باندھ دیا۔کھانے کا جو انتظام کیا تھا وہ کھانا کمر کے کپڑے سے باندھ کر دے دیا۔حضرت زبیر بن عوام سے آپ کی شادی ہوئی اور بحالت حمل آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ہجرت کے بعد آپ کے بطن سے حضرت عبد اللہ بن زبیر پیدا ہوئے جو ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے سب سے پہلے بچے تھے۔حضرت اسماء نے سو سال عمر پائی۔آپ کی وفات مکہ میں تہتر ہجری میں ہوئی۔پانچواں بچہ ام المومنین حضرت عائشہ بنت ابو بکرہ تھیں۔آپ نبی کریم صلی یک کم کی زوجہ مطہرہ تھیں۔آپ خواتین میں سب سے بڑی عالمہ تھیں۔رسول اللہ صلی علیم نے آپ کو ام عبد اللہ کی کنیت عطا فرمائی۔رسول اللہ صل اللہ ہم کو آپ کے ساتھ مثالی محبت تھی۔امام شعبی "بیان کرتے ہیں کہ جب مسروق حضرت عائشہ سے کوئی روایت بیان کرتے تو کہتے مجھ سے صدیقہ بنت صدیق نے بیان کیا جو اللہ کے محبوب کی محبوبہ ہیں اور جن کی بریت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔آپ کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں ستاون ہجری میں ہوئی۔ایک روایت کے مطابق آپ کی وفات اٹھاون ہجری میں ہوئی۔چھٹی اولاد ام کلثوم بنت ابو بکر تھیں۔آپ حضرت حبیبہ بنت خارجہ انصاریہ کے بطن سے پیدا