اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 346
محاب بدر جلد 2 346 حضرت ابو بکر صدیق اس جنگ میں رومیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی۔794 796 مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار۔795 اور ایک روایت کے مطابق پینتیس ہزار تھی۔اس جنگ میں تین ہزار رومی مارے گئے اور ان کا شکست خوردہ لشکر دیگر کئی شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوا۔797 اجنادین کی فتح کے بعد حضرت خالد بن ولید نے حضرت ابو بکر کو ایک خط کے ذریعہ یہ خوشخبری سنائی۔اس کا متن اس طرح ہے کہ السلام علیکم۔میں آپ کو خبر دے رہا ہوں کہ ہماری اور مشرکین کی جنگ ہوئی اور انہوں نے ہمارے مقابلے میں بڑے بڑے لشکر اجنادین میں جمع کر رکھے تھے۔انہوں نے اپنی صلیبیں بلند کی ہوئی تھیں اور کتابیں اٹھائی ہوئی تھیں اور انہوں نے اللہ کی قسم کھار کھی تھی کہ وہ فرار اختیار نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہمیں فنا کر دیں یا ہمیں اپنے شہروں سے نکال باہر کریں اور ہم بھی اللہ پر پختہ یقین اور اس پر تو کل کرتے ہوئے نکلے۔پھر ہم نے کسی قدر ان پر نیزوں سے وار کیا پھر ہم نے تلواریں نکالیں اور ان کے ذریعہ دشمن پر اتنی دیر تک ضر میں لگائیں جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے تیار کیا جاتا ہے۔پھر اللہ نے اپنی مدد نازل کی اور اپنا وعدہ پورا کر دیا اور کافروں کو شکست دی اور ہم نے انہیں ہر کشادہ راستے، ہر گھائی اور ہر نشیبی جگہ پر موت کے گھاٹ اتارا۔اپنے دین کو غلبہ عطا کرنے اور اپنے دشمن کو ذلیل کرنے اور اپنے دوستوں سے عمدہ سلوک کرنے پر تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔جب یہ خط حضرت ابو بکڑ کے سامنے پڑھا گیا تو اس وقت آپ مرض الموت میں مبتلا تھے۔آپ کو اس فتح نے خوش کر دیا اور آپ نے فرمایا الحمدللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مسلمانوں کی مدد کی اور اس سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیا۔798 اجنادین کی جنگ کے بارے میں یہ بھی ابہام ہے کہ یہ کب ہوئی؟ بعض کے نزدیک تو یہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوئی تھی۔اس بارے میں جو ایک وضاحت ہے یہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔جیسا کہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کب ہوئی ؟ تو مختلف روایات ہیں۔ایک روایت کے مطابق یہ 799 800 جنگ تیرہ ہجری میں حضرت ابو بکر کی وفات سے چوبیس دن یا بیس دن یا چونتیس دن پہلے لڑی گئی۔19 اور بعض مؤرخین کے زمانے میں یہ جنگ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں پندرہ ہجری میں لڑی گئی۔0 بہر حال ہمارے جو تحقیق کرنے والے ہیں ان کی جو تحقیق ہے اور ان کا یہ خیال ہے اور یہ خیال صحیح لگتا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ اجنادین کے مقام پر دو مر تبہ جنگ ہوئی ہو۔پہلی بار حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں اور دوسری بار حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں، کیونکہ بعض کتب تاریخ میں دونوں مواقع پر اسلامی افواج الگ الگ بیان ہوئی ہیں۔تیرہ ہجری میں ہونے والی جنگ کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید تھے اور پندرہ ہجری میں ہونے والی جنگ کے سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص تھے۔بہر حال