اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 343

حاب بدر جلد 2 343 حضرت ابو بکر صدیق 788 تھے۔بہر حال حضرت ابو عبیدہ نے ان سے شدید لڑائی کی۔جب اس کی اطلاع حضرت خالد نیتک پہنچی جو کہ سواروں کے ساتھ لشکر کے اگلے حصہ میں تھے تو آپ واپس لوٹے اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی لوٹے۔پھر سواروں نے رومیوں پر حملہ کر دیا اور انہیں ایک دوسرے پر گراتے ہوئے تین میل تک پیچھے دھکیل دیا یہاں تک کہ وہ واپس دمشق میں داخل ہو گئے۔دوسری طرف اجنادین میں مقیم رومی فوج نے اپنے دوسرے لشکر کی جانب خط روانہ کیا اور انہیں بھی اجنادین آنے کی ہدایت کی۔رومیوں کا یہ لشکر حضرت شرحبیل پر حملہ کی غرض سے بصری کی طرف جارہا تھا چنانچہ وہ لشکر بھی اجنادین آگیا۔اسی طرح حضرت خالد کی ہدایت پر تمام اسلامی لشکر بھی اجنادین میں جمع ہو گئے۔رومی سپہ سالار نے مسلمانوں کو کچھ دے دلا کر واپس بھیجنا چاہا کیونکہ ایرانیوں کی طرح اس کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ بھوکے ننگے لوگ ہیں۔اپنے غریب ملک سے لوٹ مار کے لیے نکلے ہیں۔وہ صدیوں کے غیر متمدن جاہل مفلس اور بے سر و سامان صحرانشین عربوں سے کسی اعلیٰ مقصد کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔چنانچہ حضرت خالد کو ایک پیشکش کی کہ اگر وہ اور ان کی فوج واپس چلے جائیں تو ہر سپاہی کو ایک دستار ایک جوڑا کپڑا اور ایک طلائی دینار دیا جائے گا۔سپہ سالار کو دس جوڑے کپڑے اور ایک سو طلائی دینار اور خلیفہ کو ایک سو جوڑے کپڑے اور ایک ہزار دینار۔تو یہ انہوں نے کہا کہ یہ ڈاکو لٹیرے ہیں۔ان کو اتنا دو اور رخصت کر دو۔حضرت خالد نے یہ سناتو یہ پیشکش بڑی حقارت سے ٹھکرا دی اور انتہائی سخت الفاظ میں کہا کہ رومیو! ہم تمہاری خیرات کو حقارت سے ٹھکراتے ہیں کیونکہ جلد ہی ہم تمہارے مال و دولت، تمہارے کنبوں اور تمہاری ذاتوں کے مالک بن جائیں گے۔789 رومیوں کی ایک لاکھ فوج سے مقابلہ اور ان کو شکست جب دونوں لشکر قریب ہو گئے تو رومیوں کے ایک سردار نے ایک عربی شخص کو بلا کر کہا کہ تم مسلمانوں میں داخل ہو جاؤ۔وہ عربی مسلمان نہیں تھا اور ان میں ایک دن رات ٹھہر و۔پھر میرے پاس ان کی خبریں لاؤ۔وہ شخص لوگوں میں جا گھسا۔عربی شخص ہونے کی وجہ سے کسی نے اس کو اجنبی نہ سمجھا وہ مسلمانوں کے درمیان ایک دن اور ایک رات مقیم رہا۔پھر جب رومی سردار کے پاس واپس آیا تو اس نے پوچھا: کیا خبر لائے ہو ؟ اس نے کہا خبر کا پوچھتے ہو تو پھر خبر یہ ہے کہ رات کو یہ عبادت گزار ہیں، رات کی عبادت کرنے والے ہیں اور دن کو شہسوار۔اپنے درمیان انصاف کو قائم رکھنے کی خاطر اگر ان کے بادشاہ کا بیٹا بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اور اگر زنا کرے تو اس کو سنگسار کر دیتے ہیں۔رومی سردار نے اسے کہا کہ اگر تم مجھ سے سچ کہہ رہے ہو تو سطح زمین پر ان سے مقابلہ کرنے کی نسبت زمین کے اندر سما جانا بہتر ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ پر بس اتنی عنایت کرے کہ مجھے اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دے نہ ان کے خلاف میری مدد کرے اور نہ ہی میرے خلاف ان کی۔790 تاریخ طبری میں یہ لکھا ہے۔