اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 344
حاب بدر جلد 2 344 حضرت ابو بکر صدیق بہر حال صبح کے وقت لوگ ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو حضرت خالد نکلے اور لشکر کو ترتیب دیا۔حضرت خالد لوگوں کے درمیان انہیں جہاد کی ترغیب دلاتے ہوئے چلتے جاتے تھے اور ایک جگہ نہ رکھتے تھے اور آپ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مضبوطی سے ڈٹی رہیں اور لوگوں کے پیچھے کھڑی ہو جائیں۔اللہ کو پکاریں اور اسی سے فریاد کرتی رہیں اور جب کبھی مسلمانوں میں سے کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے بچوں کو ان کی طرف بلند کریں اور ان سے کہیں کہ اپنی اولاد اور عورتوں کو بچانے کے لیے جنگ کرو۔حضرت خالد شہر دستے کے پاس ٹھہرتے اور فرماتے: اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کے راستے میں اور ان لوگوں سے جنگ کرو جنہوں نے اللہ کا انکار کیا ہے اور اپنی ایڑیوں کے بل پھر نہ جانا اور تم اپنے دشمن سے مرعوب نہ ہو نا بلکہ شیروں کی طرح پیش قدمی کرو یہاں تک کہ رعب چھٹ جائے اور تم آزاد معزز لوگ ہو۔تمہیں دنیا بھی دی گئی ہے اور آخرت کا بدلہ بھی تمہارے لیے اللہ کے ذمہ واجب قرار دیا گیا ہے۔دشمن کی کثرت جو تم دیکھ رہے ہو تمہیں خوف میں مبتلا نہ کرے۔یقینا اللہ اپنا عذاب اور سزا نازل کرنے والا ہے۔حضرت خالد نے لوگوں سے فرمایا کہ جب میں حملہ کروں تو تم بھی حملہ کر دینا۔791 اس کے بعد دونوں لشکروں میں شدید لڑائی ہوئی۔حضرت سعید بن زید نے مسلمانوں کو اس طرح نصیحت کر کے جوش دلایا کہاے لوگو! اللہ کے سامنے اپنی موت کو یاد رکھو اور جنگ سے بھاگ کر جہنم کے مستحق مت بنو۔اے دین کی حفاظت کرنے والو! اور اے قرآن کی تلاوت کرنے والو! صبر سے کام لو، صبر سے ! جب جنگ ہوئی اور سخت جنگ ہوئی تو رومیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔جب اپنے مقام پر پہنچ گئے تو وردان نے اپنی قوم کے سامنے تقریر کی اور کہا کہ اگر یہی حالت رہی تو یہ ملک و دولت تم سے چلی جائے گی۔بہتر ہے کہ اب بھی اپنے دلوں کے زنگ کو دھو ڈالو۔ہمارے دلوں میں خیال تک نہیں گزرا تھا کہ یہ چرواہے اور یہ بھوکے ننگے غلام عرب ہم سے لڑیں گے۔ان کو قحط و خشک سالی نے ہماری طرف روانہ کیا اور اب انہوں نے یہاں آکر پھل کھائے، میوے کھائے، جو کی جگہ گندم کی روٹی مل گئی۔سرکہ کی جگہ شہد کھا رہے ہیں۔انجیر، انگور اور عمدہ اشیاء سے لطف اٹھارہے ہیں۔پھر اس نے کچھ سر داروں سے رائے طلب کی تو ایک سردار نے یہ مشورہ دیا کہ اگر مسلمانوں کو شکست دینا چاہتے ہو تو ان کے امیر کو کسی حیلے اور بہانے سے دھوکے سے بلا کر قتل کر دو تو باقی سب لوگ بھاگ جائیں گے۔تم پہلے قوم کے دس سپاہیوں کو بھیجو کہ وہ گھات لگا کر بیٹھ جائیں اور پھر مسلمانوں کے امیر کو اکیلے گفتگو اور مذاکرات کے لیے بلاؤ۔جب وہ بات چیت کی غرض سے آئے تو گھات لگائے ہوئے سپاہی دھاوا بول کر اسے قتل کر دیں۔چنانچہ رومیوں کے امیر نے ایک فصیح و بلیغ شخص کو حضرت خالد کے پاس بھیجا۔قاصد جب مسلمانوں کے پاس پہنچا تو زور سے آواز دی کہ اے عرب! کیا خونریزی اور اس قتل پر بس نہیں کرتے