اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 340
اصحاب بدر جلد 2 340 779 حضرت ابو بکر صدیق پھر حضرت سعید بن عامر کے ساتھ حضرت بلال بھی روانہ ہو گئے۔یہ بھی درخواست کی کہ اگر صرف اذان کے لیے روکنا ہے تو میری خواہش یہی ہے کہ میں اذان نہ دوں کیونکہ دل نہیں مانتا کہ میں رسول اللہ صلی ا یکم کے بعد کسی کے لیے اذان دوں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر کے پاس اور لوگ جمع ہو گئے۔آپ نے حضرت معاویہ کو ان پر امیر بنایا اور انہیں ان کے بھائی حضرت یزید سے مل جانے کا حکم دیا۔حضرت معاویہ روانہ ہو کر حضرت یزید سے جاملے۔جب حضرت معاویہ کا گزر حضرت خالد بن سعید کے پاس سے ہوا تو ان کی فوج کا بقیہ حصہ بھی حضرت معاویہؓ کے ساتھ ہو گیا۔780 پھر حمزہ بن مالک ہندانی ایک لشکر لے کر حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس لشکر کی تعداد ایک ہزار کے قریب یا اس سے بھی زیادہ تھی۔جب حضرت ابو بکر نے ان کی تعداد اور تیاری دیکھی تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا : مسلمانوں پر اللہ کے اس احسان پر تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔اللہ ہمیشہ ان لوگوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کر کے ان کی راحت کے سامان مہیا کر تا رہتا ہے۔اس کے ذریعہ مسلمانوں کی پشت کو مضبوط کرتا ہے اور ان کے دشمن کی پشت کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔پھر حمزہ نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا: کیا آپ کے علاوہ مجھ پر کوئی اور بھی امیر ہو گا؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا : ہاں ہم نے تین امیر مقرر کیے ہیں تم ان میں سے جس کے ساتھ چاہو حاملو۔پھر جب حمزہ مسلمانوں سے ملے اور ان سے دریافت کیا کہ ان امرا میں سے کون سا امیر سب سے افضل اور نبی کریم صلی الم کی صحبت کے لحاظ سے سب سے بہترین ہے تو انہیں بتایا گیا کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح۔چنانچہ وہ ان سے جاملے۔یہ بھی ان لوگوں کا عشق رسول صلی اللہ علم کا اظہار تھا کہ جو آنحضرت صلی الم کے قریب رہا میں اس کے ساتھ رہوں۔جہادی وفود کے آنے کا سلسلہ مدینہ میں جاری رہا اور حضرت ابو بکر انہیں مہمات پر روانہ کرتے رہتے۔دوسری طرف حضرت ابوعبیدہ برابر حضرت ابو بکر کو لکھتے رہے۔رومی اور ان کے حاشیہ نشین قبائل مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بھاری تعداد میں اکٹھے ہو رہے ہیں اس لیے مجھے ارشاد فرمائیں کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہیے۔781 حضرت ابو عبیدہ کے پے در پے خطوط کے نتیجہ میں حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو شام بھیجنے کا فیصلہ کیا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ضرور خالد بن ولید کے ذریعہ رومیوں کو ان کے شیطانی وسوسے بھلا دوں گا۔حضرت خالد اس وقت عراق میں تھے جس وقت حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو شام جانے اور وہاں اسلامی افواج کی امارت سنبھالنے کا حکم دیا تو حضرت ابوعبیدہ کو لکھا: اما بعد ! میں نے شام میں دشمنوں سے جنگ کی قیادت خالد کو سونپ دی ہے۔تم اس کی مخالفت نہ کرنا۔ان کی بات سننا اور ان کے حکم کی تعمیل کرنا۔میں نے ان کو تمہارے اوپر اس لیے مقرر نہیں کیا کہ تم