اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 323

حاب بدر جلد 2 323 حضرت ابو بکر صدیق نے ان سے مشورہ مانگا۔اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے خیر و برکت سے نوازتا ہے۔اللہ کی قسم !بھلائی کے جس معاملے میں بھی ہم نے آپ سے آگے بڑھنا چاہا آپ اس میں ہمیشہ ہم پر سبقت لے گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔اللہ کی قسم! میں آپ سے اسی مقصد کے لیے ملاقات کر نا چاہتا تھا جو آپ نے ابھی بیان کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ میں یہ بات آپے سے کر نہ سکا حتی کہ آپ نے خود ہی اس کا تذکرہ کر دیا۔یقینا آپ کی رائے صحیح ہے۔اللہ نے آپ کو صحیح راہ کا ادراک عطا فرمایا ہے۔عام لوگوں سے حضرت ابو بکر کا خطاب پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عثمان بن عفان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت سعید بن زید، حضرت علی اور دیگر تمام حاضرین مجلس مہاجرین اور انصار نے آپ کی رائے کی تائید کرتے ہوئے عرض کیا ہم آپ کی بات بھی سنیں گے اور اطاعت بھی کریں گے۔ہم آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گے اور آپ کی تحریک پر لبیک کہیں گے۔پھر حضرت ابو بکر لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے دوبارہ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے اور نبی کریم صلی الی کم پر درود و سلام بھیجا۔پھر فرمایا: اے لوگو ! بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی نعمت دے کر تم پر بڑا احسان کیا۔تمہیں جہاد کے ذریعہ سے معزز کیا۔تمہیں دین اسلام کے ذریعہ دوسرے ادیان پر فضیلت دی۔لہذا اللہ کے بندو! ملک شام میں رومیوں سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔اب میں تمہارے امرا مقرر کرنے والا ہوں اور انہیں تمہارا کمانڈر بنانے لگا ہوں۔تم اپنے رب کی اطاعت کرنا، اپنے امرا کی خلاف ورزی نہ کرنا اور اپنی نیت رضائے الہی کے لیے خالص رکھنا۔سیرت و کردار بہتر سے بہتر بنانا اور کھانا پینا صحیح رکھنا۔اللہ تعالیٰ پر ہیز گاروں اور احسان کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ اے لوگو! اپنے رومی دشمن سے جنگ کے لیے شام کی طرف نکلو اور مسلمانوں کے امیر حضرت خالد بن سعید ہوں گے۔154 حضرت خالد بن سعید کی روانگی ملک شام کی فتوحات کے سلسلہ میں حضرت ابو بکر صدیق نے سب سے پہلے حضرت خالد بن سعید کو روانہ فرمایا چنانچہ ایک روایت کے مطابق حضرت ابو بکر جب حج کر کے واپس مدینہ تشریف لائے تو تیرہ ہجری میں آپ نے حضرت خالد بن سعید کو ایک لشکر کے ہمراہ شام کی طرف روانہ فرمایا جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابو بکر نے خالد بن ولید کو عراق کی طرف روانہ فرمایا تھا اسی وقت حضرت خالد بن سعید کو شام کی طرف روانہ فرمایا تھا۔لہذا سب سے پہلا جھنڈا جو شام کی فتح