اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 18
حاب بدر جلد 2 18 حضرت ابو بکر صدیق کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔واپس تشریف لائے تو آپ کی ایک لونڈی نے آپ سے کہا کہ آپ کا دوست تو (نعوذ باللہ ) پاگل ہو گیا ہے اور وہ عجیب عجیب باتیں کرتا ہے۔کہتا ہے کہ مجھ پر آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اسی وقت اٹھے اور رسول کریم صلی علیکم کے مکان پر پہنچ کر آپ کے دروازے پر دستک دی۔رسول کریم ملی لی کہ باہر تشریف لائے تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میں آپ سے صرف ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔کیا آپ نے یہ کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی علیہم نے اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کو ٹھوکر لگ جائے تشریح کرنی چاہی۔“ ہمارے ہاں تاریخ میں عموماً یہی روایت چلتی ہے۔”مگر حضرت ابو بکڑ نے کہا۔آپ تشریح نہ کریں اور مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کیا آپ نے یہ بات کہی ہے ؟ رسول کریم صلی علیم نے پھر اس خیال سے کہ معلوم نہیں یہ سوال کریں کہ فرشتوں کی شکل کیسی ہوتی ہے اور وہ کس طرح نازل ہوتے ہیں؟ پہلے۔لے کچھ تمہیدی طور پر بات کرنی چاہی مگر حضرت ابو بکر نے پھر کہا کہ نہیں نہیں! آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں درست ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔اور پھر انہوں نے کہا یارسول اللہ ! میں نے دلائل بیان کرنے سے صرف اس لئے روکا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ میرا ایمان مشاہدے پر ہو۔دلائل پر اس کی بنیاد نہ ہو کیونکہ آپ کو صادق اور راستباز تسلیم کرنے کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔غرض جس بات کو مکہ والوں نے چھپایا تھا اسے حضرت ابو بکڑ نے اپنے عمل سے واضح کر کے دکھا دیا۔64 حضرت مصلح موعودؓ نے ایک اور جگہ حضرت ابو بکر کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے اور کیونکہ وضاحت کر رہے ہیں اس لیے کسی اور حوالے سے اس میں اس طرح بیان ہے کہ ”حضرت ابو بکر کا ایمان لانا عجیب تر تھا۔جس وقت آپ کو وحی ہوئی یعنی آنحضرت صلی اللہ تم کو وحی ہوئی کہ آپ صلی علی یکم نبوت کا دعویٰ کریں۔اس وقت حضرت ابو بکر مکہ کے ایک رئیس کے گھر میں بیٹھے تھے۔اس رئیس کی لونڈی آئی اور اس نے آکر بیان کیا کہ خدیجہ کو معلوم نہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند اسی طرح نبی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ تھے۔لوگ اس خبر پر ہنسنے لگے اور اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو پاگل قرار دینے لگے مگر حضرت ابو بکر جو رسول کریم ملی ایم کے حالات سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے اسی وقت اٹھ کر حضرت رسول کریم صلی اللی نم کے دروازے پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی دعویٰ کیا ہے؟ آپ نے بتایا ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابو بکر نے بغیر اس کے کہ کوئی اور سوال کرتے جواب دیا کہ مجھے اپنے باپ کی اور ماں کی قسم ! کہ تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں مان سکتا کہ تو خدا پر جھوٹ بولے گا۔پس میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں۔اس کے بعد ابو بکر نے ایسے نوجوانوں کو جمع کر کے جو اُن کی نیکی اور تقویٰ کے 6466