اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 17

حاب بدر جلد 2 17 حضرت ابو بکر صدیق اسد الغابہ کا یہ حوالہ ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض جگہ بعض بڑھا بھی لیتے ہیں داستان کے لیے لیکن بہت ساری باتیں صحیح بھی ہوں گی۔یالات رِيَاضُ النَّصِيرة میں حضرت ابو بکر کے قبولِ اسلام کا واقعہ اس طرح درج ہے۔ام المومنین حضرت ام سلمہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق آنحضور صلی علم کے گہرے اور مخلص دوست تھے۔جب آپ مبعوث ہوئے تو قریش کے لوگ حضرت ابو بکرؓ کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو بکر !تمہارا یہ ساتھی دیوانہ ہو گیا ہے (نعوذ باللہ )۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس کو کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ مسجد حرام میں لوگوں کو توحید یعنی خدائے واحد کی طرف بلاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق نے کہا کہ یہ بات انہوں نے کہی ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں اور وہ یہ بات مسجد حرام میں کہہ رہے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر نبی کریم ملی علیہ یکم کی طرف گئے اور آپ کے دروازے پر دستک دی، آپ کو باہر بلایا۔جب آپ ان کے سامنے آئے تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ اے ابو القاسم امجھے آپ کے متعلق کیا بات پہنچی ہے ؟ آنحضور صلی للہ ہم نے فرمایا اے ابو بکر ! تمہیں میرے متعلق کیا بات پہنچی ہے ؟ حضرت ابو بکر نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اللہ کی توحید کی طرف بلاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔آنحضور صلی الی یم نے فرمایا ہاں اے ابو بکر ! یقیناً میرے رب عزوجل نے مجھے بشیر اور نذیر بنایا ہے اور مجھے ابراہیم کی دعا بنایا ہے اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے۔حضرت ابو بکر نے آپ صلی علیکم سے کہا۔اللہ کی قسم ! میں نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔آپ یقینا اپنی امانت کی عظمت، صلہ رحمی اور اچھے افعال کی وجہ سے نبوت کے زیادہ حق دار ہیں۔اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں آپ کی بیعت کروں تو رسول اللہ صلی علیم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حضرت ابو بکڑ نے آپ کی بیعت کی اور آپ کی تصدیق کی اور اقرار کیا کہ آپ جو لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔پس اللہ کی قسم ! حضرت ابو بکر نے کوئی توقف اور تردد نہ کیا جب رسول اللہ صلی علی کرم نے آپ کو اسلام کی طرف بلایا۔61 ہر ایک نے تردد کیا سوائے ابو بکر کے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علی یکم نے فرمایا: میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس نے ٹھو کر کھائی اور تردد کیا اور انتظار کرتا رہا سوائے ابو بکر کے۔میں نے جب ان سے اسلام کا ذکر کیا تو نہ وہ اس سے پیچھے ہٹے اور نہ انہوں نے اس کے بارے میں تردد کیا۔12 نبی صلی الم نے فرمایا اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا اور تم نے کہا تو جھوٹا ہے اور ابو بکر نے کہا سچا ہے۔اور انہوں نے اپنی جان ومال سے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔63 یہ بخاری کی 62 روایت ہے۔حضرت مصلح موعود حضرت ابو بکر کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک جگہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی الی یکم نے جب دعویٰ نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ