اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 299

ناب بدر جلد 2 جنگ الیس 299 حضرت ابو بکر صدیق پھر جنگ الیس کا ذکر ہے۔جنگ الیس ماہ صفر بارہ ہجری میں ہوئی۔انیس بھی عراق میں انبار کی بستیوں میں سے ایک بستی تھی۔حضرت خالد کے ہاتھوں وَ لَجہ کے دن قبیلہ بکر بن وائل اور ایرانیوں کو پہنچنے والی ایک اور عبرتناک شکست سے ان کے ہم قوم عیسائی غضبناک ہو گئے۔انہوں نے ایرانیوں کو اور ایرانیوں نے ان کو خطوط لکھے اور انیس کے مقام پر سب جمع ہو گئے۔ان کا سردار عبد الأسود عجلی مقرر ہوا۔اسی طرح ایرانی بادشاہ نے بہمن جَاؤُویہ کو خط لکھا کہ تم اپنے لشکر کو لے کر الیس پہنچو اور فارس اور عرب کے نصاریٰ میں سے جو لوگ وہاں جمع ہیں ان سے جاملو لیکن بہ فمن جادویه خود تو تو لشکر کے ساتھ نہ گیا البتہ اس نے اپنی جگہ ایک اور نامور بہادر جابان کو روانہ کیا اور اس کو حکم دیا کہ لوگوں کے دلوں میں جنگ کا جوش پیدا کرو مگر میرے آنے تک دشمن سے لڑائی شروع نہ کرنا سوائے اس کے وہ خود پہل کریں۔جابان الیس کی طرف روانہ ہوا۔بہمن جَاؤُو یہ خود ایرانی بادشاہ اردشیر کے پاس گیا تا کہ اس سے مشورہ کرے مگر یہاں آکر دیکھا کہ بادشاہ بیمار پڑا۔اس لیے بہن جادویہ تو اس کی تیمار داری میں لگ گیا اور جابان کو کوئی ہدایت نہ بھیجی۔جابان اکیلا لشکر کے ہمراہ محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو کر ماہ صفر میں الیس پہنچا۔716 مختلف قبائل اور جیزہ کے نواحی علاقوں کے عرب عیسائی جابان کے پاس جمع ہو گئے۔حضرت خالد کو جب ان عیسائی گروہوں کے اکٹھا ہونے کی اطلاع ملی تو آپ ان کے مقابلے کے لیے نکلے مگر آپ کو معلوم نہ تھا کہ جابان بھی قریب آگیا ہے۔حضرت خالد صرف ان عربوں اور نصرانیوں سے لڑنے کے ارادے سے آئے تھے مگر اُنیس میں جابان سے سامنا ہو گیا۔جب جانان الیس پہنچا تو اس موقع پر عجمیوں نے جابان سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے۔آیا پہلے ہم ان کی خبر لیں یا لو گوں کو کھانا کھلا دیں۔یعنی جنگ شروع کریں یا پہلے کھانا کھا لیں اور پھر کھانے سے فارغ ہو کر ان سے جنگ کریں۔جانان نے کہا کہ اگر دشمن تم سے کوئی تعرض نہ کریں تو تم بھی خاموش رہو لیکن میر اخیال ہے کہ وہ تم پر اچانک حملہ کریں گے اور تمہیں کھانا نہیں کھانے دیں گے۔ان لوگوں نے جابان کی بات نہ مانی۔دستر خوان بچھائے۔کھانا چنا گیا اور سب کو بلا کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔717 حضرت خالد دشمن کے مقابل پر پہنچ کر ٹھہر گئے۔سامان اتارنے کا حکم دیا۔اس کام سے فراغت ہوئی تو دشمن کی طرف متوجہ ہوئے۔حضرت خالد نے اپنے عقب کی حفاظت کے لیے محافظ دستے مقرر کیے اور دشمن کی صف کی طرف بڑھ کر للکارتے ہوئے کہا۔ابجد کہاں ہے ؟ عبد الاسود کہاں ہے ؟ مالک بن قیس کہاں ہے ؟ مالک کے علاوہ باقی سب بزدلی کی وجہ سے خاموش رہے۔مالک آپ کے مقابلے کے لیے نکلا۔حضرت خالد نے اس سے کہا: ان سب میں سے تجھے میرے مقابل پر آنے کی کس بات نے جرآت