اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 295

محاب بدر جلد 2 295 حضرت ابو بکر صدیق بہر حال علامہ طبری نے اپنی کتاب میں حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں اس جنگ کا مختصر تذکرہ کیا ہے تاہم اس کے بعد وہ یہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکڑ کے دور خلافت میں اللہ کی فتح کا قصہ عام سیرت نگاروں اور صحیح روایات کے خلاف ہے کیونکہ اللہ کی فتح حضرت عمرؓ کے عہد میں چودہ ہجری میں حضرت عتبہ بن غزوان کے ہاتھ سے عمل میں آئی تھی۔رض 705 704 تاریخ کی اور کتابوں میں جنگ اہلہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔بعض مؤرخین اس کو پہلی بار حضرت ابو بکرؓ کے عہد مبارک میں ہونا بیان کرتے ہیں اور بعض اس کی تردید کرتے ہیں کہ یہ جنگ حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کے عہد میں ہوئی تھی لیکن کتب تاریخ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور دونوں کے عہد مبارک میں جنگ اہلہ اور اللہ کی فتح کا ذکر ملتا ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس کی پہلی بار فتح حضرت ابو بکرؓ کے عہد مبارک میں ہوئی تھی لیکن بعد میں ایرانیوں کی بحری امداد کے بل بوتے پر اہل اللہ نے بغاوت کر کے آزادی حاصل کر لی۔پھر حضرت عمرؓ کے عہد مبارک میں یہ دوبارہ فتح ہوا۔بہر حال اللہ کی جنگ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔جنگ ذات السلاسل کے اختتام پر حضرت خالد بن ولید نے حضرت مٹی کو ایرانیوں کے شکست خوردہ لشکر کے تعاقب میں بھیجا اور ساتھ ہی حضرت معقل کو ابلہ بھیجا کہ وہاں پہنچ کر مال غنیمت جمع کر لیں اور قیدیوں کو گر فتار کر لیں۔چنانچہ مغقل وہاں سے روانہ ہو کر اللہ پہنچے اور مالِ غنیمت اور قیدی جمع کر لیے۔16 بعد میں حضرت عمرؓ کے عہد مبارک میں اس کی فتح کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عتبہ بن غزوان کو چودہ یا سولہ ہجری میں بصرہ کی طرف روانہ فرمایا۔حضرت عتبہ وہاں ایک مہینہ رہے۔اہل ابلہ ان کے مقابلے کے لیے نکلے۔یہ پانچ سو بھی سپاہی تھے جو اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔حضرت عتبہ نے ان لوگوں سے لڑائی کی اور انہیں شکست دی یہاں تک کہ ایرانی شہر کے اندر گھس گئے اور حضرت عقبہ اپنے لشکر میں لوٹ آئے۔اللہ نے فارسیوں کے دل میں رعب ڈال دیا، وہ شہر سے نکل گئے اور تھوڑا بہت سامان لے کر کشتیوں میں بیٹھے اور دریا عبور کر کے چلے گئے۔اس طرح پورا شہر خالی ہو گیا۔مسلمان شہر میں داخل ہو گئے یہاں پر مسلمانوں کو کافی سامان ہتھیار اور دیگر مختلف چیزیں ہاتھ آئیں اور قیدی بھی ملے۔اس سارے سامان کا خمس نکال کر باقی مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا۔مسلمانوں کی تعداد تین سو تھی۔17 جنگ مدار 707 706 پھر ایک جنگ مَذَارُ ہے۔جنگ مَذَارُ : یہ معرکہ صفر بارہ ہجری میں ہوا۔جنگ بارہ ہجری میں لڑی گئی۔708 مَذَارُ، میسان کا قصبہ ہے۔مذاڑ اور بصرہ کے در میان چار دن کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔709