اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 294

ناب بدر جلد 2 294 حضرت ابو بکر صدیق 699 گیا اس میں ہر مز کی ایک ٹوپی بھی تھی جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی اور وہ جواہرات سے مرضع تھی۔حضرت ابو بکر نے یہ ٹوپی حضرت خالد بن ولید کو عطا فرما دی تھی۔حضرت خالد نے فتح کی خوشخبری، مال غنیمت میں سے تخمیس اور ایک ہاتھی مدینہ روانہ کیا اور ہر طرف اسلامی لشکر کی فتح کا اعلان کر دیا۔زیربن کلیب خمس اور ہاتھی کو لے کر مدینہ پہنچے۔اہل مدینہ کو اس سے قبل ہاتھی دیکھنے کا کبھی اتفاق نہ ہو ا تھا۔مدینہ والوں کا تو ذکر ہی کیا، عرب کے کسی اور باشندے نے بھی ابرہہ کے ہاتھیوں کے سوا آج تک ہاتھی کی صورت نہ دیکھی تھی۔جب لوگوں کو دکھانے کے لیے اس کو سارے شہر میں گشت کرایا گیا تو بوڑھی عورتیں اس ہاتھی کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں جو ہم دیکھ رہی ہیں کیا یہ خدا کی تخلیق میں سے ہے؟ وہ یہ سمجھیں کہ کوئی بناوٹی چیز ہے۔اس ہاتھی کو حضرت ابو بکڑ نے زر کے ساتھ ہی حضرت خالد کے پاس واپس بھیج دیا۔9 اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح کی ایک بڑی وجہ حضرت ابو بکر کی وہ پالیسی بھی تھی جو انہوں نے عراق کے کاشتکاروں کے بارے میں وضع کی تھی اور جس پر خالد نے سختی سے عمل کیا تھا۔اس پالیسی کے تحت انہوں نے کاشتکاروں سے مطلق تعرض نہ کیا۔جہاں جہاں وہ آباد تھے انہیں وہیں رہنے دیا اور جزیہ کی معمولی رقم کے سوا اور کسی قسم کا تاوان یا ٹیکس ان سے وصول نہ کیا۔700 معرکہ ذات السلاسل میں جنگ میں شامل ہونے والے سوار کو ایک ہزار درہم کا حصہ دیا گیا اور پیدل کو اس کا ایک تہائی دیا گیا۔701 جنگ کا ظمہ دور رس نتائج کی حامل ثابت ہوئی۔اس لڑائی نے مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں اور انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ ایرانی جن کی سطوت کا شہرہ ایک عرصہ سے سننے میں آرہا تھا اپنی پوری طاقت کے باوجود ان کی معمولی فوج کے مقابلے میں بھی نہ ٹھہر سکے۔اس جنگ میں مالِ غنیمت کی جو مقدار ان کے ہاتھ لگی اس کا وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔702 جنگ ابله پھر جنگ ابله کا ذکر ہے جو بارہ ہجری میں لڑی گئی۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو ہدایت کی تھی کہ وہ عراق میں جنگ کا آغاز ابلہ سے کریں جو خلیج فارس پر ایک سر حدی مقام تھا۔ہند وستان اور سندھ کو جو تجارتی قافلے عراق سے آتے تھے سب سے پہلے اللہ میں قیام کرتے تھے۔اللہ کی فتح کے متعلق دور وایتیں مذکور ہیں۔ایک یہ کہ مسلمانوں نے اللہ کو سب سے پہلے حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں فتح کیا لیکن بعد میں یہ دوبارہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا اور حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں مسلمان اس پر پوری طرح قابض ہوئے۔دوسری روایت یہ ہے کہ اس کی فتح حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوئی۔703