اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 273

وو 273 حضرت ابو بکر صدیق اصحاب بدر جلد 2 میں کسری کا ساتھ دینے کے کسری کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے ، کسری کو رسول اللہ صلی الم کے خلاف بہت بھڑ کا ر کھا تھا۔جو شکایتیں وہ کر رہے تھے اس خط نے کسریٰ کے خیال میں ان کی تصدیق کر دی اور اس نے خیال کیا کہ یہ شخص میری حکومت پر نظر رکھتا ہے۔یعنی آنحضرت صلی علیم کسری کی حکومت پر نظر رکھتے ہیں یہ اس کا خیال تھا۔چنانچہ اس خط کے معا بعد کسری نے اپنے یمن کے گورنر کو ایک چٹھی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے ایک شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اور اپنے دعوؤں میں بہت بڑھتا چلا جاتا ہے۔تو فوراً اس کی طرف دو آدمی بھیج جو اس کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کریں۔اس پر باذان نے جو اس وقت کسریٰ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا ایک فوجی افسر اور ایک سوار رسول اللہ صلی علیکم کی طرف بھجوائے اور ایک خط بھی آپ کی طرف لکھا کہ آپ اس خط کے ملتے ہی فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسری کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔وہ افسر پہلے مکہ کی طرف گیا۔طائف کے قریب پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ آپ صلی علیہم مدینہ میں رہتے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں سے مدینہ گیا۔مدینہ پہنچ کر اس نے رسول اللہ صلی املی کام سے کہا کہ کسری نے باذان گور نریمن کو حکم دیا ہے کہ آپ کو پکڑ کر اس کی خدمت میں حاضر کیا جائے۔اگر آپ اس حکم کا انکار کریں گے تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کی قوم کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کے ملک کو برباد کر دے گا۔اس لئے آپ ضرور ہمارے ساتھ چلیں۔رسول کریم صلی ہی ہم نے اس کی بات سن کر فرمایا۔اچھا کل پھر تم مجھ سے ملنا۔رات کو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور خدائے ذوالجلال نے آپ کو خبر دی کہ کسری کی گستاخی کی سزا میں ہم نے اس کے بیٹے کو اس پر مسلط کر دیا ہے۔چنانچہ وہ اسی سال جمادی الاولیٰ کی دسویں تاریخ پیر کے دن اس کو قتل کر دے گا اور بعض روایات میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا آج کی رات اس نے اسے قتل کر دیا ہے ممکن ہے رات وہی دس جمادی الاولیٰ کی رات ہو۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللی کرم نے ان دونوں کو بلایا اور ان کو اس پیشگوئی کی خبر دی۔پھر رسول اللہ صلی علی یم نے باذان کی طرف خط لکھا کہ خد اتعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ کسری فلاں تاریخ فلاں مہینے قتل کر دیا جائے گا۔جب یہ خط یمن کے گورنر کو پہنچا تو اس نے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو ایسا ہی ہو جائے گاور نہ اس کی اور اس کے ملک کی خیر نہیں۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایران کا ایک جہاز یمن کی بندر گاہ پر آکر ٹھہرا اور گورنر کو ایران کے بادشاہ کا ایک خط دیا جس کی مہر کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنرنے کہا۔مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔ایران کی بادشاہت بدل گئی اور اس خط پر ایک اور بادشاہ کی مہر ہے۔جب اس نے خط کھولا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ باذان گورنریمین کی طرف ایران کے کسری شیرویہ کی طرف سے یہ خط لکھا جاتا ہے۔میں نے اپنے باپ سابق کسری کو قتل کر دیا ہے اس لئے کہ اس نے ملک میں خونریزی کا دروازہ کھول دیا تھا اور ملک کے شرفا کو قتل کر تا تھا اور رعایا پر ظلم کرتا تھا۔جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو فوراً تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور اس سے پہلے میرے باپ نے جو عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا حکم تم کو بھجوایا تھا اس کو منسوخ سمجھو۔یہ خط پڑھ کر بازان اتنا متاثر ہوا کہ اسی وقت وہ اور اس کے کئی ساتھی اسلام لے آئے اور اس نے رسول اللہ صلی علی یکم کو اپنے اسلام کی اطلاع دے دی۔665% ہے وہ