اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 272

اصحاب بدر جلد 2 272 حضرت ابو بکر صدیق رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا رویا میں مجھے زمین کے خزانے عطا کیے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کڑے رکھے گئے تو مجھ پر گراں گزرا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ میں ان دونوں پر پھونک ماروں۔میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ غائب ہو گئے۔میں نے اس سے مراد دو جھوٹے لیے جن کے درمیان میں ہوں۔صنعاء والا اسود عنسی، یمامہ والا مسیلمہ کذاب بخاری میں ہی ایک اور روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی ال نیم کی رویا بتائی گئی۔آپ صلی سلیم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ مجھے دکھایا گیا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر دوسونے کے کڑے رکھے گئے ہیں جس پر میں گھبر اگیا اور ان کو بر اجانا۔مجھے کہا گیا تو میں نے ان دونوں پر پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے یعنی اللہ کی طرف سے کہا گیا۔میں نے ان کی تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہیں جو میرے خلاف نکلیں گے۔راوی عبید اللہ نے کہا کہ ان دو میں سے ایک تو عنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور 663 دوسر ا مسیلمہ کذا جب رسول اللہ صلی للی یکم نے ایرانی بادشاہ کیری کو دعوتِ اسلام کا خط لکھا تو اس نے غضبناک ہو کر اپنے ماتحت عامل یمن باذان بعض اس کا نام بدھان بھی بیان کرتے ہیں، اس کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کا یعنی رسول اللہ صلی علیکم کا سر لے کر دربار میں پہنچے۔باذان نے دو آدمی آپ صلی علیکم کی طرف روانہ کیسے مگر آپ نے فرمایا : میرے اللہ نے مجھے بتایا ہے کہ تمہارے بادشاہ کو اس کے بیٹے شیرویہ نے ہلاک کر دیا ہے اور اس کی جگہ خود بادشاہ بن بیٹھا ہے اور ساتھ ہی باذان کو دعوتِ اسلام دی اور فرمایا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے گا تو اسے بدستور یمن کا حاکم رکھا جائے گا۔یہ سن کر دونوں اشخاص واپس چلے گئے۔باذان کو ساری بات بتائی اور اسی دوران باذان کو یہ خبر بھی مل گئی کہ واقعی ایسا ہوا کہ کسری کو اس کے بیٹے شیرویه نے ہلاک کر دیا ہے اور اس کی جگہ خود بادشاہ بن گیا ہے۔باذان نے جب آپ صلی غیر کم کی اس بات کو پورا ہوتے دیکھ لیا تو اس نے نبی کریم ملی ایم کی دعوت اسلام قبول کر لی اور آپ صلی اللہ ہم نے اسے حاکم یمن بر قرار رکھا۔664 اس خط کے بارے میں اور دعوتِ اسلام کے بارے میں اور جو کسری نے کہا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک جگہ لکھا ہے۔کہتے ہیں کہ ”عبد اللہ بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں کسری کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی الم کا خط کسری کے ہاتھ میں دیا تو اس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر سنایا تو کسری نے غصہ سے خط پھاڑ دیا۔جب عبد اللہ بن حذافہ نے یہ خبر آکر رسول اللہ صلی ال نیم کو سنائی تو آپ نے فرمایا۔کسری نے جو کچھ ہمارے خط کے ساتھ کیا خدا تعالیٰ اس کی بادشاہت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔کسری کی اس حرکت کا باعث یہ تھا کہ عرب کے یہودیوں نے ان یہودیوں کے ذریعہ سے جو روم کی حکومت سے بھاگ کر ایران کی حکومت میں چلے گئے تھے اور بوجہ رومی حکومت کے خلاف سازشوں