اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 268

محاب بدر جلد 2 268 حضرت ابو بکر صدیق چوغہ تمہیں کہاں سے ملا ہے اور حکم کے متعلق دریافت کرو کہ کیا تم نے ہی اسے قتل کیا تھا ( منظم ان کا لیڈر تھا) یا کسی اور نے ؟ اس شخص نے آکر حضرت ثمامہ سے چونہ کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا کہ یہ مجھے مالِ غنیمت میں ملا ہے۔اس شخص نے کہا کہ تم نے نظم کو قتل کیا ہے ؟ حضرت ثمامہ نے کہا کہ نہیں۔اگر چہ میری تمنا تھی کہ میں اس کو قتل کرتا۔اس شخص نے کہا کہ یہ چوغہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے ؟ حضرت محمائمہ نے کہا اس کا جواب میں تمہیں پہلے ہی دے چکا ہوں کہ مالِ غنیمت میں ملا ہے۔تو اس قبیلے کے اس شخص نے آکے اپنے دوستوں کو اپنی ساری گفتگو کی اطلاع دی۔وہ سب پھر حضرت ثمامہ کے پاس اکٹھے ہو کے آئے اور ان کو آکر گھیر لیا۔ان سب نے کہا کہ تم حظم کے قاتل ہو۔حضرت ثمامہ نے کہا کہ تم جھوٹے ہو۔میں اس کا قاتل نہیں ہوں۔البتہ یہ چونہ مجھے مال غنیمت میں بطور حصہ کے ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ حصہ تو صرف قاتل ہی کو ملتا ہے حضرت ثمامہ نے کہا کہ یہ چوغہ اس کے جسم پر نہیں تھا بلکہ اس کی سواری یا اس کے سامان سے ملا ہے۔لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔پھر ان کو شہید کر دیا۔641 حضرت سوید بن مقرن کی مہم 643 دسویں مہم کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ حضرت سوید بن منقرین کی مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔حضرت ابو بکڑ نے ایک جھنڈ ا حضرت سوید بن مقرن کو دیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقے تہامہ کو جائیں۔642 لغت میں تہامہ کے معنی شدت گرمی اور ہوا کے رک جانے کے بھی ہیں۔اسی طرح لغت میں اس کے ایک معنی نشیب کے بھی ہیں۔3 یمن کے مغرب اور جنوب میں بحر قلزم کے ساحل پر نشیبی اراضی کی ایک پٹی ہے جسے تہامہ کہتے ہیں۔اس اراضی میں بہت سی پیچی لیکن تہ بہ تہ پہاڑیاں پائی جاتی ہیں۔تہامہ کی شمالی سرحد مکہ کے قریب پہنچتی تھی اور جنوبی یمن کے پایہ تخت صنعاء سے کوئی ساڑھے تین سو میل کے فاصلے پر ختم ہوتی تھی۔تہامہ یمن کا ایک ضلع تھا جس میں بہت سے گاؤں اور قصبے تھے۔644 یہ تو تہامہ یمن کا مختصر تعارف ہے۔حضرت سوید بن مقرین کا تعارف یہ ہے کہ حضرت سوید کے والد کا نام مقرن بن عائذ تھا۔ان کا تعلق مزینہ قبیلہ سے تھا۔ان کی کنیت ابوعدی تھی۔ابو عمرو بھی کنیت بیان کی گئی ہے۔پانچ ہجری میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔انہوں نے جنگ خندق میں آنحضرت صلی الیکم کے ساتھ شمولیت کی۔پھر اس کے بعد تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ رہے۔آپ حضرت نعمان بن مقرن کے بھائی تھے جنہوں نے ایرانی فتوحات میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے تھے۔645 تاریخی کتب میں حضرت سویڈ کے تہامہ جانے اور وہاں ان کے مرتدین کے خلاف کارروائیوں کی