اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 13

اصحاب بدر جلد 2 13 حضرت ابو بکر صدیق واقف تھے۔ایک اور روایت میں ذکر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت ابو بکر رسول کریم صلی الی یکم کے دوست تھے۔49 سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ آنحضرت علی ایم کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو یعنی حضرت ابو بکر کو خاص انس اور خلوص تھا اور آپ میلی لی ایم کے حلقہ احباب میں داخل تھے۔اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہو تا تھا۔50 آنحضرت صلی الل نام کا حلقہ احباب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بعثت سے قبل رسول کریم ملی ایم کے حلقہ احباب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” بعثت سے پہلے آنحضرت صلی علیہ ظلم کے دوستانہ تعلقات کا دائرہ بہت ہی محدود نظر آتا ہے۔دراصل شروع سے ہی آپ کی طبیعت علیحدگی پسند تھی اور آپ نے اپنی عمر کے کسی حصہ میں کبھی مکہ کی عام سوسائٹی میں زیادہ خلا ملا نہیں کیا۔تاہم بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات تھے۔ان سب میں ممتاز حضرت ابو بکر یعنی عبد اللہ بن ابی قحافہ تھے۔جو قریش کے ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قوم میں بڑی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔دوسرے درجہ پر حکیم بن حزام تھے جو حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔یہ نہایت شریف الطبع آدمی تھے۔شروع شروع میں یہ اسلام نہیں لائے لیکن اس حالت میں بھی آنحضرت صلی علی یم سے بہت محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔آخر سعادت طبعی اسلام کی طرف کھینچ لائی۔پھر زید بن عمرو سے بھی آنحضرت صلی اللہ وسلم کے تعلقات تھے۔یہ صاحب حضرت عمرؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شرک ترک کر رکھا تھا اور اپنے آپ کو دین ابراہیمی کی طرف منسوب کرتے تھے مگر یہ اسلام کے زمانہ سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔51 شرک اور بتوں سے نفرت بہر حال حضرت ابو بکر آنحضرت صلی علیم کے ساتھ تعلقات میں نمبر ایک پر تھے۔زمانہ جاہلیت سے ہی حضرت ابو بکر کو شرک سے نفرت تھی اور اجتناب کرتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی شرک نہیں کیا اور نہ کبھی کسی بت کو سجدہ کیا چنانچہ سیرۃ حلبیہ میں لکھا ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ یقیناً حضرت ابو بکر نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا تھا۔علامہ ابن جوزی نے حضرت ابو بکر کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے جاہلیت میں ہی بتوں کی عبادت سے انکار کر دیا تھا یعنی وہ کبھی بتوں کے پاس نہیں گئے۔52 زمانہ جاہلیت میں آپ کو شراب سے نفرت تھی۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر نے زمانہ جاہلیت میں شراب کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا تھا۔آپ نے نہ جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں کبھی شراب پی۔53