اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 253
اصحاب بدر جلد 2 253 حضرت ابو بکر صدیق ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے کافروں میں سے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔آپ مجھے سواری عطا کیجیے اور میری مدد کیجیے۔حضرت ابو بکر نے اس کو سواری دی اور اسلحہ دیا۔ایک جگہ اس کی تفصیل یوں ملتی ہے کہ حضرت ابو بکر نے اس کو دو گھوڑے یا دوسری روایت کے مطابق تھیں اونٹ اور تیں سپاہیوں کے ہتھیار دیے اور دس مسلمان ہتھیاروں سے مسلح ان کے ساتھ کر دیے۔یہ شخص وہاں سے چلا اور جو مسلمان یا مرتد ان کے سامنے آتا ان کے اموال چھین لیتا اور جو انکار کرتا اسے قتل کر دیتا۔یہ ہر ایک کے ساتھ یہی کر رہا تھا۔مسلمانوں کو بھی قتل کر دیتا تھا، شہید کر دیتا تھا۔اس کے ہمراہ بنو شرید کا ایک شخص بھی تھا جسے نَجبَہ بن ابو منشاء کہا جاتا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ فجاء اپنے قبیلے کی طرف چلا اور راستے میں مرتد عربوں کو اپنے ساتھ ملاتا رہا۔جب اس کی جمعیت بڑھ گئی تو اس نے پہلے اپنے مسلمان ساتھیوں کو قتل کیا اور ان کا سب مال لوٹ لیا۔پھر اس نے غارت گری شروع کر دی۔کبھی اس قبیلے پر چھاپہ مارتا کبھی اس قبیلے پر مسلمانوں کی ایک پارٹی مدینہ جارہی تھی ان کو لوٹ کر مار ڈالا۔پہلے ٹوٹا اور پھر قتل کر دیا، شہید کر دیا۔حضرت ابو بکر سکو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے حضرت ظریفہ بن حاجز کو لکھا یا بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکڑ نے یہ حکم دراصل معن کو بھیجا تھا۔انہوں نے اپنے بھائی ظریفہ کو روانہ کیا تھا۔بہر حال حضرت ابو بکر نے تحریر فرمایا کہ دشمن خدافجاءہ میرے پاس آیا اور وہ کہہ رہا تھا کہ وہ مسلمان ہے۔اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والوں کے خلاف طاقت مہیا کروں۔چنانچہ میں نے اس کو سواری دی اور اسلحہ دیا۔اب مجھے یقینی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ اللہ کا دشمن مسلمانوں اور مرتدین کے پاس گیا اور ان کے اموال لیتارہا اور جو اس کی مخالفت کرتا اسے قتل کر دیتا۔لہذا تم اپنے پاس موجود مسلمانوں کو ساتھ لے کر جاؤ اور اسے قتل کر دو یا گر فتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت ظریفہ کی مدد کے لیے حضرت عبد اللہ بن قیس کو بھی روانہ کیا۔حضرت ظریفہ بن حاجز اس کے مقابلے پر گئے۔جب دونوں گروہوں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہوئی تو پہلے صرف تیروں سے مقابلہ ہوا۔ایک تیر نجبہ بن ابو میشاء کو لگا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔فجاءہ نے جو مسلمانوں کی شجاعت اور ثابت قدمی دیکھی تو اس نے حضرت ظریفہ سے کہا کہ اس کام کے تم مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو۔تم بھی حضرت ابو بکڑ کے مقرر کردہ امیر ہو اور میں بھی ان کا مقرر کردہ امیر ہوں۔بڑی چالاکی سے اس نے ان کو جنگ سے روکنے کی کوشش کی۔حضرت ظریفہ نے اس سے کہا کہ : اگر سچے ہو تو ہتھیار رکھ دو۔مجھے تو حضرت ابو بکڑ نے تمہیں پکڑنے کے لیے بھیجا ہے۔ہتھیار رکھ دو اور میرے ساتھ حضرت ابو بکر کے پاس چلو۔وہیں فیصلہ ہو جائے گا کہ تم امیر ہو کہ نہیں۔چنانچہ فجاءہ حضرت ظریفہ کے ساتھ مدینہ روانہ ہوا۔جب دونوں حضرت ابو بکر کے پاس آئے تو حضرت ابو بکر نے حضرت ظریفہ کو حکم دیا کہ اسے بقیع میں لے جاؤ اور آگ میں جلا ڈالو۔یہ سلوک اس لیے اس سے کیا گیا