اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 248

محاب بدر جلد 2 248 حضرت ابو بکر صدیق ہیں، بعض 151 ہجری میں کہتے ہیں لیکن 143 ہجری میں وفات والا قول عموماً درست تسلیم کیا جاتا ہے۔594 595 حضرت عمرو بن عاص بڑے خوش گفتار اور شیریں بیان خطیب تھے۔قادر الکلام مدبر تھے، سیاست دان اور سپہ سالار تھے۔رسول اللہ صلی ال و نیم عسکری مہموں میں ان پر اعتماد فرماتے تھے۔عمرو بن عاص، ان کے بیٹے عبد اللہ اور اتم عبد اللہ پر مشتمل خاندان کو بہترین گھرانہ قرار دیا گیا۔ایک مصنف لکھتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے جو گیارہ علم تیار کرائے تھے ان میں سے ایک علم حضرت عمر و بن عاص کے لیے بھی تھا۔آپ نے انہیں قضاعہ کے مرتدین سے جنگ کرنے کا کام سپر د کیا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی یی کم کی زندگی میں بھی جنگ ذات السلاسل میں قبیلہ قضاعہ سے لڑ چکے تھے اور اس قبیلہ کے تمام حالات اور تمام راستوں سے بخوبی واقف تھے۔596 اہل عمان کا قبول اسلام رسول اللہ صلی الم نے حضرت عمرو بن عاص کو ذوالحجہ 8 ہجری میں عمان کے دور ئیسوں جیفر اور عباد پسر ان جلندی کے پاس ایک تبلیغی خط دے کر روانہ فرمایا تھا۔یہ سفارت نہایت کامیاب رہی اور اہل عمان حضرت عمر و بن عاص کے ہاتھ پر اسلام لے آئے۔رسول اللہ صلی علیم نے اظہارِ خوشنودی کے طور پر آپ کو عمان ہی میں زکوۃ کی وصولی کے کام پر مقرر فرما دیا۔آپ عمان ہی میں مقیم تھے کہ آپ کو حضرت ابو بکر کے خط کے ذریعہ رسول اللہ صلی الی یوم کی وفات کی خبر ملی۔آپ کی وفات کے بعد عرب کے بیشتر قبائل مرتد ہو گئے۔ان کی سیر کوبی کے لئے حضرت ابو بکر نے عمرو بن عاص کو عثمان سے طلب فرمایا تو آپ حضرت ابو بکر کے حکم کی تعمیل میں عمان سے مدینہ آگئے۔597 جب فتنہ ارتداد اور بغاوت کے سد باب کے لیے حضرت ابو بکر نے گیارہ امراء مقرر فرمائے تھے تب حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت شتر خبیل بن حسنہ کو حکم دیا تھا کہ جب یمامہ کی مہم سے تم بخیر و خوبی فارغ ہو جاؤ تو قبیلہ قضاعہ کا رخ کرنا اور حضرت عمرو بن عاص کے ساتھ ہو کر قضاعہ کے ان باغیوں کی خبر لینا جو اسلام لانے سے انکار کریں اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں۔598 چنانچہ حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شر خبیل دونوں نے مل کر بنو قضاعہ کے باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا اور ان پر چھاپے مارنے لگے۔اس کی تفصیل میں ایک مصنف لکھتے ہیں کہ بنو قضاعہ خوشی سے اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے بلکہ دیگر قبائل کی طرح انہوں نے بھی خوف کے باعث یا مال و جاہ کی طمع میں اسلام قبول کیا تھا اور ان کے دل اسلام کی محبت سے خالی تھے لہزار سول اللہ صلی ایم کی وفات کے بعد جو نہی انہیں مسلمانوں کی کمزوری کا احساس ہوا انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔بار گاہِ خلافت سے حکم ملتے ہی عمرو بن عاص اپنے لشکر کے ساتھ اسی رستے سے جُذام کی جانب روانہ ہوئے جس سے پہلے گئے تھے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ بنو قضاعہ جنگ کے لیے پوری طرح