اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 249
محاب بدر جلد 2 249 حضرت ابو بکر صدیق تیار ہیں۔مقابلہ شروع ہوا گھمسان کا رن پڑا۔پہلے کی طرح اب بھی قضاعہ کو شکست کھانی پڑی اور حضرت عمرو بن عاص ان سے زکوۃ لے کر اور انہیں دوبارہ حلقہ بگوش اسلام بنا کر مظفر و منصور مدینه واپس آگئے۔599 حضرت خالد بن سعید کی مہم ساتویں مہم جو باغیوں کے خلاف تھی اس کے متعلق جو تفصیل ہے اس کے مطابق یہ مہم حضرت خالد بن سعید بن عاص کی تھی جو مرتد باغیوں کے خلاف بھیجے گئے تھے۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن سعید بن عاص کے لیے جھنڈا باندھا اور ان کو شام کے سرحدی علاقے حمقتین کی طرف بھیجا۔600 حضرت خالد بن سعید بن عاص کا تعارف یہ ہے کہ آپ کا نام خالد ، کنیت ابوسعید تھی۔آپ کے والد کا نام سعید بن عاص بن امیہ اور والدہ کا نام لبینہ بنت حباب تھا جو ام خالد کے نام سے مشہور 601 رض حضرت خالد بہت ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔بعض کا بیان ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر کے بعد اسلام قبول کیا تھا اور آپ تیسرے یا چوتھے مسلمان تھے اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ آپ پانچویں مسلمان تھے۔آپ سے پہلے ابھی تک صرف حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابو بکر، حضرت زید بن حارثہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت خالد کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کا ذکر یہ ہے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آگ کے کنارے پر کھڑے ہیں اور ان کا باپ انہیں اس میں گرانے کی کوشش کر رہا ہے اور آپ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی یکم آپ کو کمر سے پکڑے ہوئے ہیں کہ کہیں آپ آگ میں گر نہ جائیں۔حضرت خالد اس پر گھبرا کر بیدار ہوئے اور کہا اللہ کی قسم ! یہ خواب سچا ہے۔پھر آپ کی ملاقات حضرت ابو بکر کے ساتھ ہوئی تو آپ نے اپنا خواب حضرت ابو بکر کو سنایا۔ان سے ذکر کیا۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ تم سے بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں بچائے۔یہ یعنی محمدصلی الیم اللہ کے رسول ہیں ان کی پیروی کر لو کیونکہ جب تم اسلام قبول کرتے ہوئے ان کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں آگ میں گرنے سے بچائے گا اور تمہارا باپ اس آگ میں پڑنے والا ہے۔چنانچہ حضرت خالد آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی علیہ کی مکہ میں اختیار مقام پر تھے۔اجیاد بھی مکہ میں صفا پہاڑی سے متصل ایک مقام کا نام ہے جہاں رسول اللہ صلی للہ ہم نے بکریاں چرائی تھیں۔حضرت خالد نے آپ صلی علیم سے عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ صلی الی یکم نے فرمایا خدا کی طرف بلاتا ہوں جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (صلی لیکر اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے اور یہ کہ تم ان پتھروں کی پوجا چھوڑ دو جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کون ان کی پوجا کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔اس پر حضرت خالد نے کہا کہ میں الله سة سة