اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 238
اصحاب بدر جلد 2 238 حضرت ابو بکر صدیق الله سة اس نے اسلام قبول کر لیا۔حضرت عمر و یہاں دو سال تک مقیم رہے اور لوگوں کو تبلیغ اسلام کرتے رہے۔آپؐ کی اس کامیاب تبلیغی مساعی سے اس علاقے کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔حضرت حذیفہ اور حضرت عرفجہ کی مہم جب آنحضرت صلی کمی کی وفات ہوئی اور عرب کے چاروں طرف ارتداد اور بغاوت پھیل گئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرو بن عاص کو عمان سے مدینہ طلب فرمالیا۔دوسری طرف رسول اللہ صلی علیکم کی وفات کے بعد لقیط بن مالک از دیان میں اٹھا جس کا لقب ذو تاج تھا اور یہ دورِ جاہلیت میں شاہ عمان بلندی کے ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔جلندی عمان کے بادشاہوں کا لقب تھا۔بہر حال اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور عمان کے جاہلوں نے اس کی پیروی کی، یہ عمان پر قابض ہو گیا اور جنیفر اور اس کے بھائی عباد کو پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی اور جنیفر نے حضرت ابو بکر کو اس ساری صورت حال سے باخبر کیا اور مدد طلب کی۔حضرت ابو بکر نے ان کے پاس دو امیر بھیجے ، ایک حذیفہ بن محصن عافانی حمیری کو عثمان کی طرف اور دوسرے عزفجه بن هر قمه بارقی از دی کو مہرہ کی طرف اور حکم دیا کہ وہ دونوں ساتھ ساتھ سفر کریں اور جنگ کا آغاز عمان سے کریں۔مھرہ یمن کے ایک قبیلے کا نام تھا اور حکم دیا کہ جب عمان میں جنگ ہو تو حذیفہ قائد ہوں گے اور جب مھرہ میں جنگ ہو تو حذیفہ سپہ سالاری کے فرائض سر انجام دیں گے۔حضرت حذیفہ اور حضرت عروہ کا تعارف یہ ہے۔تاریخ طبری میں حضرت حذیفہ کا نام حذیفہ بن محصن غلفانی بیان ہوا ہے جبکہ صحابہ کے حالات پر مشتمل کتاب میں ان کا نام حذیفہ قلعانی بیان ہوا ہے۔آپ حضرت ابو بکر کی وفات تک عمان کے والی رہے۔صحابہ کے حالات پر مشتمل کتب میں حضرت عز فجر کا مکمل نام عرقجه بن خزیمہ بیان ہوا ہے۔علامہ ابن اثیر کے نزدیک ان کے والد کا نام ھر جمہ تھا۔یہ دشمن کے خلاف جنگی چالوں کے لیے مشہور تھے۔حضرت ابو بکر نے ان دونوں کی مدد کے لیے حضرت عکرمہ بن ابو جہل کو روانہ کیا۔اس سے پہلے جنگ یمامہ کی تفصیلات میں مسیلمہ کذاب کے ذکر میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ جب حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ کو فتنہ ارتداد اور بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا اور شر خبیل بن حسنہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا تو عکرمہ کو حکم دیا تھا کہ وہ شتر خبیل کے آنے سے پہلے حملہ نہیں کریں گے لیکن انہوں نے اس کا انتظار کیے بغیر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں انہیں شکست کھانا پڑی جس پر حضرت ابو بکر ان سے ناراض ہوئے اور انہیں عمان کی طرف جانے کا حکم دیا۔حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق عکرمہ اپنی فوج کے ساتھ عثمان کی طرف عرفجہ اور حذیفہ کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے اور قبل اس کے کہ وہ دونوں عمان پہنچتے عکرمہ عمان کے قریب ایک مقام رجام میں ان دونوں سے جاملے اور انہوں نے جنیفر اور اس کے بھائی عباد کے پاس اپنا پیغام بھیج دیا۔تاریخ کی بعض کتب جیسے کامل ابن اثیر میں اس کا نام عیاذ بیان کیا جاتا ہے۔رِجام عمان میں ایک طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔بہر حال مسلمان لشکر کے سرداروں کے پیغام ملنے کے بعد جنیفر اور عباد اپنی اپنی قیام گاہوں سے نکلے جو پہلے چھپ گئے تھے۔اس مرتد کے نبی کے اعلان ہونے کے بعد جس نے اپنی فوج بنالی تھی اس کی