اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 235
حاب بدر جلد 2 235 حضرت ابو بکر صدیق کر دیئے گئے ہوں۔کبھی تو وہ خیر البریہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جدائی کی وجہ سے اور گاہے ان فتنوں کے باعث جو جلا کر بھسم کر دینے والی آگ کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے روتے۔امن کا شائبہ تک نہ تھا۔فتنہ پرداز گند کے ڈھیر پر اگے ہوئے سبزے کی طرح چھا گئے تھے۔مومنوں کا خوف اور ان کی گھبراہٹ بہت بڑھ گئی تھی اور دل دہشت اور بے چینی سے لبریز تھے۔ایسے ( نازک) وقت میں (حضرت) ابو بکر رضی اللہ عنہ حاکم وقت اور (حضرت) خاتم النبیین کے خلیفہ بنائے گئے۔منافقوں، کافروں اور مرتدوں کے جن رویوں اور طور طریقوں کا آپ نے مشاہدہ کیا ان سے آپ ہم و غم میں ڈوب گئے۔آپ اس طرح روتے جیسے ساون کی جھڑی لگی ہو اور آپ کے آنسو چشمہ رواں کی طرح بہنے لگتے اور آپ (رضی اللہ عنہ ) (اپنے) اللہ سے اسلام اور مسلمانوں کی خیر کی دعا مانگتے۔(حضرت) عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ جب میرے والد خلیفہ بنائے گئے اور اللہ نے انہیں امارت تفویض فرمائی تو خلافت کے آغاز ہی میں آپ نے ہر طرف سے فتنوں کو موجزن اور جھوٹے مدعیان نبوت کی سر گرمیوں اور منافق مرتدوں کی بغاوت کو دیکھا اور آپ پر اتنے مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ پہاڑوں پر ٹوٹتے تو وہ پیوست زمین ہو جاتے اور فوراً گر کر ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن آپ کو رسولوں جیسا صبر عطا کیا گیا۔یہاں تک کہ اللہ کی اور نصرت آن پہنچی اور جھوٹے نبی قتل اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے۔فتنے دور کر دیئے گئے اور مصائب چھٹ گئے اور معاملے کا فیصلہ ہو گیا اور خلافت کا معاملہ مستحکم ہوا اور اللہ نے مؤمنوں کو آفت سے بچالیا اور ان کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور ان کیلئے ان کے دین کو تمکنت بخشی اور ایک جہان کو حق پر قائم کر دیا اور مفسدوں کے چہرے کالے کر دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے ( حضرت ابو بکر صدیق کی نصرت فرمائی اور سرکش سر داروں اور بتوں کو تباہ وبرباد کر دیا اور کفار کے دلوں میں ایسار عب ڈال دیا کہ وہ پسپا ہو گئے اور (آخر) انہوں نے رجوع کر کے توبہ کی اور یہی خدائے قہار کا وعدہ تھا اور وہ سب صادقوں سے بڑھ کر صادق ہے۔پس غور کر کہ کس طرح خلافت کا وعدہ اپنے پورے لوازمات اور علامات کے ساتھ (حضرت ابو بکر صدیق کی ذات میں پورا ہوا۔565 566 پھر حضرت خالد کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خالد یمامہ کی مہم سے فارغ ہو کر ابھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے کہ حضرت ابو بکر نے ان کو لکھا کہ عراق کی طرف روانہ ہو جائیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علاء بن حضرمی نے حضرت ابو بکر سے کمک مانگی۔آپ نے خالد بن ولید کو لکھا اور یہ حکم دیا کہ یمامہ سے علاہ کے پاس بعجلت روانہ ہو جاؤ اور ان کی مدد کرو اور وہ ان کی مدد کے پاس پہنچے۔عظم کو قتل کیا پھر ان کے ساتھ مل کر خط کا محاصرہ کیا۔خط بھی بحرین میں قبیلہ عبد القیس کا محلہ ہے جہاں کثرت سے کھجوریں ہوتی تھیں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے انہیں عراق کی طرف کوچ کا حکم دیا اور انہوں نے بحرین سے ادھر کوچ کیا۔567 مجاعه بن مُرارہ کی بیٹی سے حضرت خالد کی شادی کے بارے میں جو سوال اٹھتے ہیں اس بارے میں کتب تاریخ اور سیرت میں لکھا ہے کہ جنگ یمامہ کے ختم ہونے اور بنو حنیفہ کے باقی ماندہ بیچ