اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 222

اصحاب بدر جلد 2 222 حضرت ابو بکر صدیق آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ صرف حضرت براء بن مالک نے نہیں بلکہ اور بھی کئی مسلمانوں نے دیوار پھلانگ کر دروازے کا رخ کیا تھا۔546 مسیلمہ کذاب کا مارے جانا مسلمان مرتدین سے قتال کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب تک پہنچ گئے۔وہ ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا ہوا تھا جیسے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو۔وہ بچاؤ کے لیے اس دیوار پر چڑھنا چاہتا تھا اور غصہ سے پاگل ہو چکا تھا۔وحشی بن حرب جنہوں نے غزوہ احد میں حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا مسیلمہ کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنا وہی بر چھا جس سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا مسیلمہ کی طرف پھینکا اور وہ اسے جالگا اور دوسری طرف سے پار ہو گیا۔پھر جلدی سے ابو دجانہ سماک بن خرشتہ اس کی طرف بڑھے۔اس پر تلوار چلائی اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔قلعہ سے ایک عورت نے آواز دی۔ہائے حسینوں کے امیر کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیا۔547 مسیلمہ کذاب کو کس نے جہنم رسید کیا؟ بلاذری کا بیان ہے کہ قبیلہ بنو عامر کا کہنا ہے کہ ان کے قبیلے کے ایک فرد خداش بن بشیر نے قتل کیا۔ایک روایت ہے کہ انصار کے قبیلہ خزرج کے عبد اللہ بن زید نے قتل کیا۔بعض نے کہا کہ حضرت ابو دجانہ نے قتل کیا۔معاویہ بن ابوسفیان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کو قتل کیا تھا۔بعض کے نزدیک ہو سکتا ہے کہ سب اس کے قتل میں شریک ہوں۔بعض کتب میں جس میں طبری بھی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ کو ایک انصاری اور وخشی نے مشترکہ پر قتل کیا تھا۔548 وحشی بن حربے مسیلمہ کو قتل کرنے کا واقعہ خود بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزوہ احد میں حضرت حمزہ کو شہید کرنے کے بعد جب لوگ لوٹے تو میں بھی ان کے ساتھ لوٹا اور میں مکہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی علی تم نے مکہ فتح کیا اور اس میں اسلام پھیلا تو میں طائف کی طرف بھاگ گیا۔لوگوں نے رسول اللہ صلی علی یکم کی طرف اینچی بھیجے اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ صلی علیہ کم اینچیوں سے تعریض نہیں کرتے۔انہوں نے یعنی وخشی نے کہا کہ میں بھی ان کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی العلیم کے پاس پہنچا۔آپ صلی علیہم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا کیا تم وخشی ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ تم نے حمزہ کو کیسے قتل کیا تھا۔تو میں نے آپ صلی علی کیم کو تفصیل سے آگاہ کیا۔جب میں نے بات ختم کی تو آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا: کیا تمہارے لیے ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آؤ؟ وخشی کہتے ہیں کہ میں وہاں سے نکل گیا۔پھر جب رسول اللہ صل العلم فوت ہوئے اور مسیلمہ کذاب نے بغاوت کی تو میں نے کہا: میں مسیلمہ کی طرف ضرور نکلوں گا تا کہ میں اسے قتل کروں تاکہ اس کے ذریعہ سے حضرت حمزہ کو قتل کرنے کا کفارہ ادا کر سکوں۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ اس جنگ میں طور پر