اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 213
213 حضرت ابو بکر صدیق اصحاب بدر جلد 2 رئیس نہیں تھا۔کوئی اور تھا اور یہ اس کا تابع تھا۔اسی وجہ سے اسے سامان کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔اور دوسری مر تبہ وہ اس وقت آیا جب لوگ اس کے تابع تھے اور اس وقت ہی نبی کریم صلی علی یکم کی اس سے گفتگو ہوئی تھی یا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی واقعہ ہو اور وہ اپنی مرضی سے اپنی حمیت اور اس بات پر تکبر کرتے ہوئے کہ وہ نبی کریم صلی الی یم کی مجلس میں حاضر ہو سامان کے پاس رک گیا ہو لیکن نبی کریم صلی ا ہم نے تالیف قلب کی عادت کی وجہ سے اس سے عزت کا سلوک کیا۔پھر حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ ایک بڑی تعداد کے ساتھ آیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ وہ سترہ لوگوں کے ساتھ آیا۔یہ بات بھی مسیلمہ کے ایک سے زائد دفعہ مدینہ آنے کی دلیل ہے۔26 مسیلمہ کذاب کا دعوی نبوت اور علم بغاوت بلند کرنا بہر حال جب یہ وفد واپس یمامہ پہنچاتو اللہ تعالیٰ کا دشمن مسیلمہ مرتد ہو گیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور کہا مجھے بھی آپ صلی ایم کے ساتھ نبوت میں شریک کر لیا گیا ہے۔کیا جب تم نے رسول اللہ کے پاس میرا ذکر کیا تھا تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تم سے بُرا نہیں ہے ؟ آپ صلی الم نے یہ صرف اس لیے کہا تھا کہ آپ جانتے تھے کہ آنحضور صلی کم نہیں ہیں اور بنو حنیفہ جانتے تھے کہ مجھے بھی آپ کے معاملے میں شریک کر لیا گیا ہے۔پھر مسیلمہ بناوٹ کر کے کلام بنانے لگا اور لوگوں کے لیے قرآن کریم کی نقل کرتے ہوئے کلام بنانے لگا اور ان سے نماز معاف کر دی۔اس نے اپنی ہی شریعت شروع کر دی۔نماز معاف کر دی۔ایک روایت کے مطابق اس نے دو نمازیں نماز عشاء اور فجر معاف کر دی تھی اور لوگوں کے لیے شراب اور زنا کو حلال قرار دے دیا۔اس کے ساتھ وہ یہ بھی گواہی دیتا کہ آنحضور صلی اللہ کم ہی ہیں۔بنو حنیفہ نے ان باتوں پر اس سے اتفاق کر لیا۔ایک اور سبب جس نے مسیلمہ کی طاقت بڑھائی وہ تھا رجال بن عُنْفُوَہ کا اس سے مل جانا۔بڑی ہوشیاری سے اس نے ایک تو یہ کہ آسانیاں پیدا کر دیں کہ شریعت میں یہ یہ آسانیاں ہیں اور مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے وحی کی ہے اور ساتھ یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ آنحضور صلی علی میر نبی بھی ہیں تا کہ جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان میں کسی کو یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ہمیں یہ آنحضرت صلی ای کم سے دور لے کے جا رہا ہے۔بڑی منافقت سے اس نے یہ سارے کام کیے۔بہر حال لکھا ہے کہ ایک اور سبب جس نے مسیلمہ کی طاقت بڑھائی وہ تھا رجال بن عُنقوہ کا اس سے مل جانا۔یہ شخص بھی یمامہ کا ہی رہنے والا تھا اور بنو حنیفہ کے وفد کے ساتھ بھی آیا تھا۔ہجرت کر کے نبی کریم صلی المیہ کم کے پاس مدینہ آ گیا تھا یہاں اس نے قرآن کریم پڑھا اور دینی تعلیم حاصل کی۔سة 527 جب مسیلمہ نے ارتداد اختیار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ تم نے اسے اہل یمامہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا اور لوگوں کو مسیلمہ کی اطاعت سے روکنے کے لیے بھیجا لیکن یہ مسیلمہ سے زیادہ فتنہ کا باعث ہوا۔جب اس نے دیکھا کہ لوگ مسیلمہ کی اطاعت قبول کرتے جارہے ہیں تو وہ ان لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ