اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 212

ناب بدر جلد 2 212 حضرت ابو بکر صدیق معاملہ ہے اس کا جو فیصلہ ہو یا آپ کے بعد نبوت ہمیں مل جائے۔یہی اس کا زیادہ بڑا مطالبہ تھا۔تو نبی کریم صلی الم نے فرمایا کہ اگر تم مجھے سے یہ چھڑی بھی مانگو تو میں تمہیں یہ نہیں دوں گا اور میں تجھے وہی شخص سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے خواب دکھائی گئی ہے جو مجھے دکھائی گئی۔اور یہ ثابت بن قیس ہے ، وہ میری طرف سے تمہیں جواب دے گا۔پھر نبی صلی اللہ علم واپس تشریف لے گئے۔523 اسی طرح ایک اور روایت میں ذکر ہے حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی علیم کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد صلی علی تم اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔یہ پھر پہلی روایت کی وضاحت ہوتی ہے اور وہ وہاں اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا تھا۔رسول اللہ صلی امیہ کی اس کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ نام کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن اس تھے اور رسول اللہ صلی الی ایم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی یہاں تک کہ آپ مسیلمہ کے سامنے جبکہ وہ اپنے ساتھیوں میں تھا کھڑے ہو گئے۔آپ نے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اپنے متعلق ہر گز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تُو نے پیٹھ پھیری تو اللہ تیری جڑ کاٹ دے گا اور میں دیکھتا ہوں کہ تو وہی شخص ہے جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے۔اور یہ ثابت ہیں یعنی ثابت بن قیس جو میری طرف سے تجھے جواب دیں گے۔پھر آپ صلی الی تم اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔یہ روایت بھی بخاری کی ہے۔524 حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو میں وہی شخص پاتا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔حضرت ابوہریرہ نے مجھ سے کہا۔رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا ایک بار میں سویا ہوا تھا اس اثنا میں میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔( یہ خواب کا ذکر ہو رہا ہے) ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔آنحضرت صلی علیکم نے فرمایا میں نے خواب میں کنگن دیکھے اس کیفیت نے مجھے فکر میں ڈالا۔پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔چنانچہ میں نے ان پر پھونکا اور وہ اُڑ گئے۔میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔راوی عبید اللہ نے کہا۔ان میں سے ایک وہ عیسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں مار ڈالا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔یہ بھی بخاری کی روایت ہے۔525 بہر حال مندرجہ بالا روایات سے یہی لگتا ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک سے زیادہ مرتبہ مدینہ آیا تھا۔ایک مرتبہ اُس وقت جب اُس کے وفد والے اسے سامان کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ گئے تھے اور اس کی ملاقات رسول کریم صلی اللہ کم سے نہ ہو سکی تھی اور دوسری مرتبہ وہ اس وقت مدینہ آیا تھا جب اس کی ملاقات رسول کریم صلی الم سے ہوئی تھی اور جس میں اُس نے رسول کریم صلی ا ہم سے جانشین بننے کا مطالبہ کیا تھا۔اس حوالے سے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ مسیلمہ دو دفعہ مدینہ آیا ہو۔پہلی دفعہ اس وقت جب بنو حنیفہ کارئیس اس کی بجائے کوئی اور تھا۔یعنی اس وقت وہ قبیلہ کا