اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 209

حاب بدر جلد 2 209 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد بن ولید کو بلا وجہ اس پر الزام لگایا جائے اس لیے یہ تفصیل میں نے بیان کی ہے کہ بعض کم علم آج کل بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں اور حضرت ابو بکر پر اصل میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اس بارے میں صحیح تھے اور حضرت ابو بکر نے نعوذ باللہ انصاف سے کام نہیں لیا اور غلط رنگ میں حضرت خالد بن ولید کی حمایت کی ہے حالانکہ یہ ساری تفصیلات جو انہوں نے دیکھیں، حضرت ابو بکر نے سارا جائزہ لیا پھر فیصلہ کیا اور اس سارے الزام سے حضرت خالد کو بری فرمایا۔مسیلمہ کے مقابلہ کے لئے حضرت خالد کی یمامہ کی طرف روانگی حضرت خالد کی یمامہ کی طرف روانگی کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ وہ قبیلہ اسد ، غطفان اور مالک بن نویرہ وغیرہ سے فارغ ہو کر یمامہ کا رخ کریں اور اس کی بڑی تاکید کر رکھی تھی۔شریک بن عَبدَه فَزَارِی بیان کرتے ہیں۔میں ان لوگوں میں سے تھا جو معرکہ بُزاخہ میں شریک تھے۔حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے مجھے خالد کی طرف روانہ کیا۔میرے ساتھ حضرت خالد کے نام ایک خط تھا جس میں لکھا تھا کہ اما بعد! تمہارے پیغام رساں کے ذریعہ سے تمہارا خط ملا۔اس میں معرکہ بُزاہ میں اللہ کی فتح اور نصرت کا تم نے ذکر کیا ہے اور اسد وغطفان کے ساتھ جو معاملہ تم نے کیا ہے وہ مذکور ہے اور تم نے تحریر کیا ہے کہ میں یمامہ کی طرف رخ کر رہا ہوں۔تمہیں میری وصیت ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک سے تقویٰ اختیار کرو اور تمہارے ساتھ جو مسلمان ہیں ان کے ساتھ نرمی بر تو۔ان کے ساتھ باپ کی طرح پیش آؤ۔اے خالد ! خبر دار بنی مغیرہ کی نخوت و غرور سے بچنا۔میں نے تمہارے متعلق ان کی بات نہیں مانی ہے جن کی بات میں کبھی نہیں ٹالتا۔لہذا تم جب بنو حنیفہ سے مقابلہ میں اتر و تو ہوشیار رہنا۔یادر کھو! بنو حنیفہ کی طرح اب تک کسی سے تمہارا مقابلہ نہیں پڑا۔وہ سب کے سب تمہارے خلاف ہیں اور ان کا ملک بڑا وسیع ہے۔لہذا جب وہاں پہنچو تو بذاتِ خود فوج کی کمان سنبھالو۔میمنہ پر ایک شخص کو اور میسرہ پر ایک شخص کو اور شہسواروں پر ایک کو مقرر کرو۔اکابرین صحابہ اور مہاجرین و انصار میں سے جو تمہارے ساتھ ہیں ان سے برابر مشورہ لیتے رہو اور ان کے فضل و مقام کو پہچانو۔پوری تیاری کے ساتھ میدانِ جنگ میں جب دشمن صف بستہ ہوں تو ان پر ٹوٹ پڑو۔تیر کے مقابلے میں تیر ، نیزے کے مقابلے میں نیزہ، تلوار کے مقابلے میں تلوار۔ان کے قیدیوں کو تلواروں پر اٹھالو۔قتل کے ذریعہ ان میں خوف و ہراس پیدا کرو۔ان کو آگ میں جھونکو۔خبر دار میری حکم عدولی نہ کرنا۔وَالسّلامُ عَلَيْكَ یہ خط جب خالد کو ملا تو آپ نے اس کو پڑھا اور کہا ہم نے سن لیا اور ہم اس کی مکمل فرمانبرداری کریں گے۔خالد نے مسلمانوں کو اپنے ساتھ تیار کیا اور بنو حنیفہ یعنی مسیلمہ یا جن کی سر براہی مسیلمہ کذاب کر رہا تھا ان سے قتال کے لیے روانہ ہوئے۔انصار پر ثابت بن قیس بن شماس امیر مقرر تھے۔مرتدین میں سے جن سے راستہ میں واسطہ پڑتا اس کو عبرت ناک سزا دیتے۔ادھر حضرت ابو بکر نے