اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 188

ناب بدر جلد 2 188 حضرت ابو بکر صدیق کیونکہ پھر بدلہ لینے کے لیے قرآن شریف کا بھی، اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم ہے کہ جیسا کوئی کرتا ہے اس کو ویسا ہی سزا دو۔لیکن اس بات کی وضاحت ایک جگہ انہی مصنف ڈاکٹر علی محمد صلابی صاحب نے اس طرح بھی لکھی ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ مرتدین باغیوں کو آگ میں جلا دیا جائے۔انہوں نے لکھا ہے کہ کسی کو جلانے کی سزا دینا تو جائز نہیں ہے۔ارشاد نبوی بھی ہے کہ إِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللهُ کہ آگ کے ذریعہ عذاب دینا صرف اللہ کا کام ہے لیکن یہاں انہیں جلانے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ ان بد معاشوں نے اہل ایمان کے ساتھ یہی برتاؤ کیا تھا لہذا یہ قصاص کے طور پر تھا۔467 اسی کتاب میں حضرت ابو بکر کے اسی خط کا ذکر کرتے ہوئے جو بیان ہوا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ جو مسلمانوں کی صف کی طرف کوٹنے سے انکاری ہو اور ارتداد پر ڈٹ جائے وہ محاربین میں سے ہے اس پر حملہ کرناضروری ہے اس کو قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔468 اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی یہی فرمایا ہے کہ جب تمہیں مشکل میں ڈالتے ہیں تو اس کے مطابق ہی ان کو سزا دو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔باغیوں نے جیسا کہ پہلے میں ذکر کر چکا ہوں گذشتہ خطبہ میں بھی، ابھی بھی میں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کو جلانے اور انہیں گھناؤنے طریقے سے قتل کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ان کو آگ میں جلایا، ان کے گھروں کو جلایا، ان کے بچوں، بیویوں سب کو جلایا، ان کا مثلہ کیا۔لہذا حضرت ابو بکر صدیق نے اسی طرح ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا کہ جو اس میں شامل تھے ان سے وہی سلوک کرنا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔469 پہلی مہم طلیحہ اور سجاح بنت حارث اور مسیلمہ کذاب کی طرف گیارہ مہمات بھیجی گئی تھیں۔ان میں سے پہلی مہم کی تفصیل کچھ یوں ہے جو طلیحہ بن خویلد ، مالک بن نویرہ ، سجاح بنت حارث اور مسیلمہ کذاب و غیرہ باغی مرتدین اور جھوٹے نبیوں کے قلع قمع کے لیے بھیجی گئی تھی۔حضرت ابو بکر صدیق نے ایک جھنڈا حضرت خالد بن ولید کے سپر د کیا اور آپ کو حکم دیا کہ طلیحہ بن خویلد کے مقابلے کے لیے جائیں اور اس سے فارغ ہو کر بکاخ میں مالک بن نویرہ سے لڑیں اگر وہ لڑائی پر مصر ہو یعنی کہ اگر لڑنے پر اصرار کر رہا ہو تو پھر لڑنا ہے۔بطاح بنو اسد کے علاقے میں ایک چشمہ کا نام ہے وہاں (مقابلہ ) ہو ا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت ثابت بن قیس کو انصار کا امیر مقرر کیا اور انہیں حضرت خالد بن ولید کے ماتحت کر کے حضرت خالد کو حکم دیا کہ وہ طلیحہ اور عُيِّينه بن حضن کے مقابلے پر جائیں جو بنو اسد کے ایک چشمہ بُزَاخَہ پر فروکش تھے۔جب حضرت ابو بکر نے مرتدین سے جنگ کے لیے حضرت خالد بن ولیڈ کے واسطے جھنڈ اباندھا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی علیہم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید اللہ کا بہت ہی اچھا بندہ ہے اور ہمارا بھائی ہے 470 471