اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 6

اصحاب بدر جلد 2 6 حضرت ابو بکر صدیق وجہ سے حضرت ابو بکر کا نام صدیق پڑ گیا، آپ کو صدیق کہا جانے لگا۔20 حضرت ابو ہریرہ کے آزاد کردہ غلام ابو وہب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جس رات مجھے لے جایا گیا یعنی واقعہ اسراء میں تو میں نے جبریل سے کہا یقیناً میری قوم میری تصدیق نہیں کرے گی یعنی میری بات کو سچ نہیں مانے گی تو جبریل نے کہا۔يُصَدِقكَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ الصَّدِيقُ یعنی آپ کی تصدیق ابو بکر کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔یہ طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے۔21 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کی روایت یہ ہے کہ جب اسراء کا واقعہ ہوا تو لوگ دوڑے دوڑے حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا دوست کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے کہا کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے کہ میں رات بیت المقدس تک ہو کر آیا ہوں۔“ حضرت مصلح موعود لکھ رہے ہیں کہ ”اگر معراج کا ذکر ساتھ ہی آپ نے کیا ہوتا“ یعنی ایک ہی وقت میں بتایا ہو تا یا ایک ہی واقعہ ہو تا تو کفار اس حصہ پر زیادہ شور کرتے مگر انہوں نے صرف یہ کہا کہ آنحضرت صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ میں رات کو بیت المقدس تک گیا تھا۔پھر جب ابو بکر نے آنحضرت علی ملی یکم کی تصدیق کی تو لوگوں نے کہا: کیا آپ اس خلاف عقل بات کو بھی مان لیں گے ؟ حضرت ابو بکڑ نے کہا: میں تو اس کی یہ بات بھی مان لیتا ہوں کہ صبح شام اس پر آسمان سے کلام اتر تا ہے۔22% الله سة اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ ہم نے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا خطاب دیا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔آنحضرت صلی للی کم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کے اندر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقت میں حضرت ابو بکر نے جو صدق دکھایا اس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات حاصل کرنے کی خواہش کرے اس کے لئے ضروری ہے کہ ابو بکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتی المقدور دعا سے کام لے۔جب تک ابوبکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جا تا صدیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔“ آپ کے دیگر القابات 2366 عتیق اور صدیق کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے دیگر القابات بھی تھے یعنی جیسے خَلِيفَةُ رَسُولِ اللہ۔حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ رسول اللہ بھی کہا جاتا تھا۔چنانچہ ایک روایت میں ذکر ہے ایک آدمی نے حضرت ابو بکر سے کہا پا خلیفة اللہ ! اے اللہ کے خلیفہ تو آپ نے فرمایا خلیفتہ اللہ نہیں بلکہ خلیفہ رسول اللہ۔یعنی رسول اللہ صلی علی کم کا خلیفہ ہوں اور میں اسی پر راضی ہوں۔24