اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 175

حاب بدر جلد 2 175 442" حضرت ابو بکر صدیق ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے کہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کو زبر دستی عیسائی بنالیں۔مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ عیسائیوں کو زبر دستی مسلمان بنالیں۔ایران والوں کا حق ہے کہ وہ سب حنفیوں کو زبر دستی شیعہ بنالیں اور حنفیوں کا حق ہے کہ وہ سب کو زبر دستی ستی بنا لیں۔غرض یہ ایسی عقل کے خلاف بات ہے کہ کوئی انسان اس کو ایک منٹ کے لیے بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔گذشتہ انبیاء کی قوموں نے جب بھی خدائی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ انْذِزِ مُكْبُوهَا وَ اَنْتُم لَهَا كَرِهُونَ (290) یعنی اگر تم خود ہدایت لینا پسند نہیں کرتے تو ہم جبر ا تمہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن افسوس کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں میں اس اصل کا انکار کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں “اور اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ اکثریت مسلمانوں کی یہی کہتی ہے۔”اگر دنیا اس مسئلہ کو سمجھ جائے تو یقیناً ظلم اور تعدی مذہبی اور سیاسی امور میں بند ہو جائے۔نہ لوگ اپنے عقیدے لوگوں پر جبر اُٹھو نہیں اور نہ اپنے سیاسی نظام دوسرے ملکوں میں جبر آجاری کرنے کی کوشش کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لا إكراه في الدین یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کونسے سامان تھے۔اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں ان کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے ، باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں۔اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمنوں کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیٹروں بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کر دیں۔اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلاویں۔اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ان کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہو جائیں۔اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا إلهَ إِلَّا اللہ کی آواز پہنچاویں۔تم ایمانا کہو کہ کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبر مسلمان کئے جاتے ہیں جن کا دل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے ؟ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نورِ ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔" حضرت ابو بکر نے مرتدین کو کیوں قتل کیا 443<< ان آیات قرآنیہ اور ارشادات کی روشنی میں یہ تو ثابت ہو گیا کہ مرتد کی سزا قتل نہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرتد کی سزا قتل نہیں تو حضرت ابو بکڑ نے مرتدین کو کیوں قتل کیا اور قتل