اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 136
حاب بدر جلد 2 136 حضرت ابو بکر صدیق 364<< حضرت مصلح موعودؓ پھر ایک جگہ اس واقعہ کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ ”دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اسلام سے پہلے کی کیا حالت تھی۔جب آپ خلیفہ ہوئے آپ کے والد زندہ تھے۔کسی نے ان کو جا کر خبر دی کہ مبارک ہو ابو بکر خلیفہ ہو گیا ہے۔انہوں نے پوچھا کون سا ابو بکر ؟ اس نے کہا آپ کا بیٹا۔اس پر بھی انہیں یقین نہ آیا اور کہا کوئی اور ہو گا لیکن جب ان کو یقین دلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ اکبر ! محمد صلی علیم کی بھی کیا شان ہے کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو عربوں نے اپنا سر دار مان لیا۔غرض وہ ابو بکر جو دنیا میں کوئی بڑی شان نہ رکھتا تھا، محمد صلی ا ظلم کے طفیل اس قدر عزت پا گیا کہ اب بھی لاکھوں انسان اس کی طرف اپنے آپ کو فخر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں کہ ”یقینا سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کا احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا۔وہ اس سے ہزاروں لاکھوں گنازیادہ دے دیتا ہے جس قدر کوئی خدا کے لئے دیتا ہے۔دیکھو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ایک معمولی کو ٹھا چھوڑا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر قدر کی۔اس کے بدلہ میں اسے ایک سلطنت کا مالک بنا دیا۔حضرت ابو بکر کی خلافت کے متعلق رسول کریم ملی ایم کی ایک رویا بھی ہے۔اس کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی العلیم نے فرمایا: ایک خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک کنویں پر کھڑا ڈول سے جو چرخی پر رکھا ہوا تھا پانی کھینچ کر نکال رہا ہوں۔اتنے میں ابو بکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول بھینچ کر اس سے اس طور سے نکالے کہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی کرے گا اور ان سے در گزر فرمائے گا۔پھر عمر بن خطاب آئے اور وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا تو میں نے کوئی شہ زور نہیں دیکھا جو ایسا حیرت انگیز کام کرتا ہو جیسا عمر نے کیا۔اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو گئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں پر جابیٹھے۔366 365" حضرت ابو بکر کی بھی ایک رؤیا ہے۔اس کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ان کے جسم پر ایک یمنی چادر کا جوڑا ہے لیکن اس کے سینے پر دو داغ ہیں۔حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی الی یوم کے سامنے یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی للہ ہم نے فرمایا۔یمنی جوڑے سے مراد یہ ہے کہ تمہیں اچھی اولاد ملے گی اور دو داغوں سے مراد دو سال کی امارت ہے یعنی تم دو سال مسلمانوں کے حاکم رہو گے۔367 انتخاب خلافت کے بعد حضرت ابو بکر کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ خلافت کے بعد آپ مدینہ تشریف لے آئے اور وہیں قیام کر لیا۔آپ نے اپنے معاملات پر غور کیا اور کہا کہ بخدا تجارت کرتے ہوئے لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکیں گے۔اس خدمت کے لیے فراغت اور پوری توجہ کی ضرورت ہے۔ادھر میرے اہل و عیال کے لیے بھی کچھ ضروری ہے اس لیے آپ نے تجارت چھوڑ دی اور بیت المال میں سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضروریات کے لیے روزانہ خرچ لینے