اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 131
صحاب بدر جلد 2 131 حضرت ابو بکر صدیق قریش کے فاجروں کے تابع ہوں گے۔حضرت سعد نے کہا کہ آپ نے سچ کہا۔ہم وزیر ہیں اور آپ لوگ امراء ہیں۔351 تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ اس موقع پر حضرت خباب بن مُنذ ڑ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے گر وہ انصار ! تم اس معاملہ کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھو کیونکہ یہ لوگ اس وقت تمہارے زیر سایہ ہیں یعنی مہاجرین۔کسی کو تمہاری مخالفت کی جرات نہ ہو گی اور لوگ تمہاری رائے کے خلاف نہیں جائیں گے۔تم عزت والے ، دولت والے ، کثرت تعد اد والے اور طاقت و شوکت والے، تجربہ کار ، جنگجو، دلیر اور بہادر ہو۔لوگ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو۔اب اختلاف نہ کرو ورنہ تمہاری رائے تم میں فساد پیدا کر دے گی اور تمہارا معاملہ تم پر ہی الٹ جائے گا۔پس اگر یہ لوگ اس بات کا انکار کریں یعنی مہاجرین قریش اس بات کا انکار کریں جو تم نے ابھی سنی ہے تو ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر ان میں سے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ ناممکن ہے۔دو تلوار میں ایک نیام میں جمع نہیں ہو سکتیں۔اللہ کی قسم ! عرب ہر گز اس بات کو نہیں مانیں گے کہ وہ تمہیں امیر بنا دیں جبکہ ان کے نبی تمہارے علاوہ دوسرے قبیلے کے ہوں۔ہاں البتہ عربوں کو یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی روک نہیں ہو گی کہ ان کا معاملہ ان کے سپر د کر دیں جن میں نبوت تھی اور اسی میں سے ان کے امیر ہونے چاہئیں اور اس شکل میں اگر عربوں میں سے کوئی اس کی امارت ماننے سے انکار کرے گا تو اس کے مقابلے میں ہمارے پاس کھلی ہوئی دلیل اور کھلا ہو ا حق ہو گا۔محمد صل الی یکم کی حکومت اور امارت کے بارے میں کون ہماری مخالفت کرے گا؟ ہم ہی آپ صلی میری کمر کے دوست اور خاندان والے ہیں۔سوائے احمق کے یا گناہ گار یا خود کو ہلاکت میں ڈالنے والے کے وہی اس تجویز کی مخالفت کرے گا اور کوئی نہیں کر سکتا۔حباب بن منذر نے کہا اے گروہ انصار ! تم اس معاملہ کا خود تصفیہ کرو اور ہر گز اس شخص کی اور اس کے ہمراہیوں کی بات نہ ماننا۔یہ تمہارا حصہ بھی ہضم کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہ لوگ ہماری تجویز نہ مانیں تو ان سب کو اپنے علاقوں سے نکال دو اور تمام امور کی باگ اپنے ہاتھ میں لے لو کیونکہ بخدا تم اس امارت کے سب سے زیادہ مستحق اور اہل ہو۔تمہاری تلواروں نے تمام لوگوں کو اس دین کا مطیع بنایا ہے جو کبھی مطیع ہونے والے نہ تھے۔میں اس تمام کارروائی کے تصفیہ کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہوں کیونکہ میں اس کا پورا تجربہ رکھتا ہوں اور اس کا اہل ہوں۔بخدا! اگر تم چاہو تو میں کانٹ چھانٹ کر اس کا فیصلہ کر لیتا ہوں۔حضرت عمرؓ نے کہا اگر ایسا کروگے تو اللہ تم کو ہلاک کر دے گا۔انہوں نے یعنی حباب نے کہا کہ بلکہ تم مارے جاؤ گے۔حضرت ابوعبیدہ نے اس موقع پر کہا کہ اے گروہ انصار اتم وہ ہو جنہوں نے سب سے پہلے دین کی حمایت اور نصرت کی۔اب یہ نہ