اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 132
تاب بدر جلد 2 132 حضرت ابو بکر صدیق ہونا چاہیے کہ سب سے اوّل تم ہی اس میں تغیر و تبدل کرو۔اس پر بشیر بن سعد نے کہا: اے گر وہ انصار ! مشرکین سے جہاد اور دین اسلام کی ابتدا میں خدمت کی جو سعادت ہمیں حاصل ہوئی اس سے ہمارا مقصد صرف اپنے پروردگار کی رضامندی اور اپنے نبی کی اطاعت تھی۔ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ دوسروں پر اپنی برتری جتائیں اور ہم اس کے ذریعہ سے دنیا سے کوئی فائدہ نہیں چاہتے۔ہم پر اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا ہی احسان ہے۔سن لو بے شک محمد صلی علی کم قریش میں سے تھے لہذا ان کی قوم اس امارت کی زیادہ مستحق اور اہل ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان سے اس معاملہ میں کبھی تنازعہ نہیں کروں گا۔اللہ سے ڈروان کی مخالفت نہ کرو اور نہ اس معاملے میں ان سے تنازعہ کرو۔52 الله 352 بہر حال حضرت عمرؓ نے جو تقریر کی وہ روایت دوسری جگہ سنن کبری للنسائی میں اس طرح ہے کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں جب انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے اس پر حضرت عمرؓ نے کہا جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں تو نہیں ہو سکتیں۔اس طرح وہ ٹھیک نہیں رہیں گی نیز انہوں نے ، حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور عرض کیا: یہ تین خوبیاں کس کی ہیں۔اِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ اِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبة:40) یعنی جب وہ یعنی رسول اللہ صلی یکم اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر۔یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اس کا ساتھی کون تھا؟ پھر کہا کہ اِذْهُمَا فِي الْغَارِ (التوبة: 40) یعنی جب وہ دونوں غار میں تھے۔وہ دونوں کون تھے ؟ پھر انہوں نے ، حضرت عمرؓ نے کہا کہ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا یعنی غم نہ کر۔یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔رسول اللہ صلی علیکم حضرت ابو بکر کے علاوہ کس کے ساتھ تھے یا کس کا ساتھ ہے۔یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی اور پھر لوگوں سے کہا تم بھی بیعت کر لو۔چنانچہ لوگوں نے بیعت کر لی۔353 حضرت عمرؓ کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت بشیر بن سعد نے بیعت کی اور اس طرح تمام انصار نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔354 یہ بیعت اسلامی لٹریچر میں بیعت سقیفہ اور بیعت خاصہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔355 بعض روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے حضرت ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی جبکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھی باقی انصار کے ساتھ بیعت کر لی تھی۔چنانچہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ ساری قوم نے باری باری حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور حضرت سعد نے بھی بیعت کی۔آنحضرت ملا م کے بعد خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی علیکم کے بعد خلافت ہوئی اور پھر کیسی شاندار ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے۔اس وقت انصار نے چاہا کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور بعض اور صحابہ فوراً اس جگہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے 356