اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 123
حاب بدر جلد 2 123 حضرت ابو بکر صدیق رسول اللہ صلی ایم کے چہرہ سے کپڑا ہٹایا اور آپ کو بوسہ دیا آنحضرت صلی اللہ کرم کی وفات کے بارے میں ایک جگہ اس طرح عُروہ بن زبیر نے نبی صلی الیکم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ یکم فوت ہو گئے اور حضرت ابو بکر اس وقت سنح میں تھے یعنی سُنح مضافات میں ایک گاؤں ہے۔یہ خبر سن کر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے۔جب آنحضرت صلی علی یم کی وفات کی خبر پہنچی تو حضرت ابو بکر تو وہاں تھے نہیں حضرت عمرؓ موجود تھے وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی الہ یکم فوت نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم ! میرے دل میں یہی بات آئی تھی کہ اللہ آپ کو ضرور ضرور اٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آگئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کے چہرہ سے کپڑا ہٹایا اور آپ کو بوسہ دیا اور کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک وصاف ہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ آپ کو کبھی دو موتیں نہیں دکھائے گا۔یہ کہہ کر حضرت ابو بکر باہر چلے گئے اور کہنے لگے اے سم کھانے والے ! ٹھہر جا۔یعنی حضرت عمر کو کہا کہ ٹھہر جاؤ۔جب حضرت ابو بکر بولنے لگے تو حضرت عمر بیٹھ گئے۔حضرت ابو بکر نے حمد و ثنا بیان کی اور کہا۔أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ۔وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَتَّى لَا يَمُوتُ دیکھو! جو محمد صل العلم کو! کو پوجتا تھا سن لے کہ محمد تو یقینا فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کو پوجتا تھا اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی۔اِنَّكَ مَيْتَ وَإِنَّهُم مَّيْتُونَ ( از مر:31) تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُهُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِى الله الشكرنينَ (آل عمران: 145) کہ محمد صرف ایک رسول ہیں آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں تو پھر کیا اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر لوگ اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔137 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوا کہ گویا لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابو بکر نے وہ آیت پڑھی جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی۔گویا تمام لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھی۔پھر لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی میں نے سنا یہی آیت پڑھ رہا تھا۔راوی کہتے ہیں۔سعید بن مُسَيِّبِ نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر نے کہا اللہ کی قسم ! جو نہی میں نے ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنا میں اس قدر گھبرایا کہ دہشت کے مارے میرے پاؤں مجھے سنبھال نہ سکے اور میں زمین پر گر گیا۔جب میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنا تو میں نے جان