اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 105
حاب بدر جلد 2 105 حضرت ابو بکر صدیق روانہ ہوئے۔خیبر ایک نخلستان ہے جو مدینہ منورہ سے ایک سو چوراسی کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔یہاں ایک آتش فشانی چٹانوں کا سلسلہ ہے۔یہاں یہود کے بہت سے قلعے تھے جن میں سے بعض کے آثار اب بھی باقی ہیں۔ان قلعوں کو مسلمانوں نے غزوہ خیبر میں فتح کیا تھا۔یہ علاقہ نہایت زر خیز اور یہود کاسب 277 276 سے بڑا مرکز تھا۔آپ صلی علیہم نے اپنے بعد مدینہ پر سباغ بن عُرْفُطه غِفَارِی کو امیر مقرر کیا۔خیبر میں قلعوں کا محاصرہ دس سے زائد راتیں رہا۔7 حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی تعلیم کو دردِ شقیقہ ہو جاتا تھا تو آپ ایک یا دو دن باہر تشریف نہ لاتے تھے۔پس جب آپ خیبر میں اترے تو آپ کو درد شقیقہ ہو گیا تو آپ لوگوں میں تشریف نہ لائے۔سر درد ہوتی ہے جسے درد شقیقہ Migraine کہتے ہیں۔رسول الله علی الم نے حضرت ابو بکر صدیق کو گیتہ کے قلعوں کی طرف بھیجا۔پس انہوں نے رسول اللہ سلیم کا جھنڈ الیا اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے اور سخت قتال کیا۔پھر واپس آگئے اور فتح نہ ہوئی حالانکہ انہوں نے بہت کوشش کی تھی۔پھر رسول اللہ صلی ال نیلم نے حضرت عمر کو بھیجا۔انہوں نے بھی آپ کا جھنڈ الیا اور سخت قتال کیا اور یہ پہلے قتال سے بھی زیادہ سخت تھا۔پھر آپ بھی واپس لوٹ آئے لیکن فتح نہ ہوئی۔278 تاریخ وسیرت کی اکثر کتب میں یہی ملتا ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمررؓ کو یکے بعد دیگرے امیر لشکر بنایا گیا تھا لیکن ان کے ہاتھ سے قلعہ فتح نہ ہو سکا۔البتہ ایک کتاب ہے جس کا نام ”سیدنا صدیق اکبر“ ہے۔یہ لاہور سے فروری 2010ء میں شائع ہوئی تھی۔ہماری تحقیق کرنے والوں نے اس کو دیکھ کر مجھے لکھا ہے۔اس میں مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر کے ہاتھ سے وہ قلعہ فتح ہوا تھا لیکن اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔بہر حال مصنف لکھتا ہے کہ ایک قلعہ کی فتح کے لیے حضرت ابو بکر امیر لشکر ہو کر گئے جو آپ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔دوسرے قلعہ پر حضرت عمر کو مقرر کیا گیاوہ بھی کامیاب ہوئے۔تیسرے قلعہ کو سر کرنے کی مہم محمد بن مسکویہ کے سپر دہوئی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے تو حضور صلی ا ہم نے فرمایا صبح میں ایسے شخص کو امیر لشکر بنا کر علم دوں گا جو خدا اور اس کے رسول کو بہت دوست رکھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے قلعہ فتح ہو گا۔چنانچہ حضرت علی و علم عنایت ہوا اور قلع قموص فتح ہوا۔279 ایک روایت غزوہ خیبر کے حوالے سے واقدی کی ہے۔کیونکہ لوگ اس کی تاریخ بھی پڑھتے ہیں اس لیے ذکر کر دیتا ہوں لیکن ضروری نہیں کہ یہ سو فیصد صحیح ہو۔بہر حال وہ لکھتا ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر آنحضرت علی ایم کے ایک صحابی حضرت محباب بن منذر نے آپ سے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایہود کھجور کے درخت کو اپنی جوان اولاد سے بھی زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔آپ ان کے کھجور کے درخت کاٹ دیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی یم نے کھجوروں کے درخت کاٹنے کا ارشاد فرمایا اور مسلمانوں نے تیزی سے کھجوروں کے درخت کاٹنے شروع کیے۔یہاں تک جو یہ بیان ہے وہ سو فیصد قابل قبول نہیں