اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 106

حاب بدر جلد 2 106 حضرت ابو بکر صدیق و سکتالیکن بہر حال یہ اگلا حصہ صحیح لگتا ہے۔کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابو بکر آپ صلی الم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یقینا اللہ عزوجل نے آپ سے خیبر کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے جو اس نے آپ سے کیا ہے۔آپ کھجور کے درخت نہ کاٹیں۔اس پر آپ صلی علیہ کم 280 نے حکم دیا اور آپ صلی ایام کے منادی نے اعلان کیا اور کھجوروں کے درخت کاٹنے سے منع کر دیا۔10 جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی علیہ کم کو خیبر پر فتح نصیب فرمائی تو آپ صلی اللہ ہم نے خیبر کی ایک خاص وادی كتیبه کو اپنے قرابت داروں اور اپنے خاندان کی عورتوں اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں میں تقسیم فرمایا۔اس موقع پر رسول اللہ صلی علیم نے دیگر رشتہ داروں کے علاوہ حضرت ابو بکر ھو بھی ایک سو وسق غلہ اور کھجور میں عطا فرمائیں۔281 ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع اڑھائی کلو کا ہوتا ہے۔282 اس طرح تقریباً تین سو پچہتر من غلہ بنتا ہے جو حضرت ابو بکر کے حصہ میں آیا۔سيريه حضرت ابو بکر بطرف تجد 283 اس کے بارے میں لکھا ہے کہ مجد ایک نیم صحرائی لیکن شاداب خطہ ہے۔اس میں متعد د وادیاں اور پہاڑ ہیں۔یہ جنوب میں یمن، شمال میں صحرائے شام اور عراق تک جا پہنچتا ہے۔اس کے مغرب میں صحرائے حجاز واقع ہے۔علاقہ سطح زمین سے بارہ سو میٹر بلند ہے۔اس بلندی کی بنا پر اس کو نجد کہتے ہیں۔83 نجد میں بَنُو كِلاب مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو بکر کو ان کی سرکوبی کے لیے رسول اللہ صلی العلیم نے وہاں بھیجا۔یہ سر یہ شعبان سات ہجری میں ہوا۔حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہم نے حضرت ابو بکر کو بھیجا اور ہم لوگوں پر ان کو امیر بنایا۔284 ابوسفیان صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ آیا تو اس کے بارے میں لکھا ہے کہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب بنو بکر نے جو قریش کے حلیف تھے ، مسلمانوں کے حدیبیہ حلیف قبیلہ بنو خُزاعہ پر حملہ کیا اور قریش نے ہتھیاروں اور سواریوں سے بنو بکر کی مدد بھی کی اور صلح بیہ کی شرائط کا پاس نہ کیا اور بڑے غرور اور تکبر سے کہہ دیا کہ ہم کسی معاہدے کو نہیں مانتے تو اس وقت ابوسفیان مدینہ میں آیا اور صلح حدیبیہ کے معاہدے کی تجدید چاہی۔وہ رسول اللہ صلی علیم کے پاس گیا لیکن آپ صلی علیہم نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔پھر وہ ابو بکر کے پاس گیا اور ان سے بات کی کہ وہ رسول اللہ صلی علیم سے بات کریں لیکن انہوں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔پھر جیسا کہ حضرت عمرؓ کے ذکر میں بیان ہو چکا ہے وہ حضرت عمر کے پاس گیا انہوں نے بھی انکار کر دیا۔285 بہر حال وہ ناکام لوٹا۔286