اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 104
محاب بدر جلد 2 104 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر فرمایا کرتے تھے کہ اسلام میں صلح حدیبیہ سے بڑی کوئی اور فتح نہیں ہے۔271 سریہ حضرت ابو بکر بطرف بَنُو فَزَارَه سر یہ حضرت ابو بکر بطرف بَنُو فَزَارَہ اس کے ذکر میں لکھا ہے کہ یہ سر یہ چھ ہجری میں ہوا ہے۔بنو فزارہ نجد اور وادی القریٰ میں آباد تھے۔272 طبقات الکبریٰ میں اور سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ یہ سر یہ حضرت زید بن حارثہ کی کمان میں بھیجا گیا تھا۔273 لیکن صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے حضرت ابو بکر کو اس سریہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے فزارہ قبیلہ سے جنگ کی اور ہمارے امیر حضرت ابو بکر تھے۔آپ کو رسول اللہ صلی علیم نے ہم پر امیر بنایا تھا۔274 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اس سریہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے صحابہ کا ایک دستہ حضرت ابو بکر کی کمان میں بنو فزارہ کی طرف روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ اس وقت مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھا اور اس دستہ میں سَلَمہ بن اکوع بھی شامل ہوئے جو مشہور تیر انداز اور دوڑنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ ہم صبح کی نماز کے قریب اس قبیلہ کی قرار گاہ کے پاس پہنچے اور جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو بکر نے ہمیں حملہ کا حکم دیا۔ہم قبیلہ گزارہ سے لڑتے ہوئے ان کے چشمہ تک جاپہنچے اور مشرکین کے کئی آدمی مارے گئے جس کے بعد وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ہم نے کئی آدمی قید کر لئے۔سلمہ روایت کرتے ہیں کہ بھاگنے والے لوگوں میں سے ایک پارٹی بچوں اور عورتوں کی تھی جو جلدی جلدی ایک قریب کی پہاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی۔میں نے ان کے اور پہاڑی کے درمیان تیر پھینکنے شروع کر دیئے۔جس پر یہ پارٹی خائف ہو کر کھڑی ہو گئی اور ہم نے انہیں قید کر لیا۔ان قیدیوں میں ایک عمر رسیدہ عورت بھی تھی جس نے اپنے اوپر سرخ چمڑے کی چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس کی ایک خوبصورت لڑکی بھی اس کے ساتھ تھی۔میں ان سب کو گھیر کر حضرت ابو بکر کے پاس لے آیا اور آپ نے یہ لڑکی میری نگرانی میں دے دی۔پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو آنحضرت صلی علیم نے مجھ سے یہ لڑکی لے لی اور اسے مکہ بھیجوا کر اس کے عوض میں بعض ان مسلمان قیدیوں کی رہائی حاصل کی جو اہل مکہ کے پاس محبوس تھے۔275 جن کو اہل مکہ نے قید کیا ہوا تھا۔اس لڑکی کے عوض ان کو چھڑوایا۔غزوہ خیبر غزوہ خیبر کے بارے میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی للی یک ماہ محرم سات ہجری میں خیبر کی طرف