اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 98

اصحاب بدر جلد 2 98 حضرت ابو بکر صدیق جمع کرتے اور کبھی ٹوکری میں مٹی اٹھاتے۔ایک دن آپ صلی اللہ ہم کو بہت زیادہ تھکاوٹ ہو گئی تو آپ صلی علیکم بیٹھ گئے۔پھر اپنے بائیں پہلو پر پتھر کا سہارا لیا تو آپ صلی علیہ تم کو نیند آگئی تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر صل الل ولیم کے سرھانے کھڑے ہو کر لوگوں کو آپ صلی للی نام کے پاس سے گزرنے سے روکتے رہے کہ کہیں وہ آپ صلی ای کم کو جگانہ دیں۔قریش اور اس کے حامیوں کے دس ہزار کے لشکر نے مدینہ کے مسلمانوں کا جب محاصرہ کر لیا تو اس محاصرہ کے زمانہ میں حضرت ابو بکر مسلمانوں کے لشکر کے ایک حصہ کی قیادت کر رہے تھے۔بعد میں اس جگہ جہاں حضرت ابو بکر نے قیادت فرمائی ایک مسجد بنادی گئی جسے مسجد صدیق کہا جاتا تھا۔8 257 غزوہ بنو قریظہ اور حضرت ابو بکڑ کی شرکت 258 غزوہ بنو قریظہ ایک غزوہ تھا۔واقدی نے غزوہ بنو قریظہ میں شامل افراد کے نام درج کیے ہیں جس کے مطابق قبیلہ بنو تیم میں سے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ بھی غزوہ بنو قریظہ میں شامل ہوئے تھے۔259 عبد الرحمن بن غنم روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ال ولا بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ اگر آپ کو دنیاوی زینت والے لباس میں دیکھیں گے تو ان میں اسلام قبول کرنے کی خواہش زیادہ ہو گی۔پس آپ وہ حلہ زیب تن فرمائیں جو حضرت سعد بن عبادہ نے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔پس آپ صلی علیہ کی اسے پہنیں تا کہ مشرکین آپ پر خوبصورت لباس دیکھیں۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایسا کروں گا۔اللہ کی قسم ! اگر تم دونوں میرے لیے کسی ایک امر پر متفق ہو جاؤ تو میں تمہارے مشورے کے خلاف نہیں کرتا اور میرے رب نے میرے لیے تمہاری مثال ایسی ہی بیان کی ہے جیسا کہ اس نے ملائک میں سے جبرائیل اور میکائیل کی مثال بیان کی ہے۔جہاں تک ابنِ خطاب ہیں تو ان کی مثال فرشتوں میں سے جبرائیل کی سی ہے۔اللہ نے ہر امت کو جبرائیل کے ذریعہ ہی ہلاک کیا ہے اور ان کی مثال انبیاء میں سے حضرت نوح کی سی ہے جب انہوں نے کہا رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (ت: 27) اے میرے رب ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بستا ہوا نہ رہنے دے۔اور ابنِ ابی قحافہ کی مثال فرشتوں میں میکائیل کی مانند ہے یعنی حضرت ابو بکر کی مثال۔جب وہ مغفرت طلب کرتا ہے تو ان لوگوں کے لیے جو زمین میں ہیں اور انبیاء میں اس کی مثال حضرت ابراہیم کی مانند ہے جب انہوں نے کہا فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنَى وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (براہیم: 37) پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقینا مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقین تو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔آپ نے فرمایا اگر تم دونوں میرے لیے کسی ایک امر پر متفق ہو جاؤ تو میں مشورہ میں تم دونوں کے خلاف نہیں کروں گا۔لیکن تم