اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 96
حاب بدر جلد 2 96 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر نے فرمایا کیوں نہیں۔اللہ کی قسم! میں ضرور پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے تو انہوں نے مسطح کو دوبارہ دینا شروع کر دیا۔یعنی حضرت ابو بکر جو خرچ کرتے تھے وہ خرچ دوبارہ شروع کر دیا۔اللہ کی قسم ! میں نے ان میں خیر ہی دیکھی ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم میرے معاملے میں یعنی حضرت عائشہ کے بارے میں حضرت زینب سے پوچھا کرتے تھے۔آپ صلی ایم نے فرما یا زینب کو کہ اے زینب ! تم کیا جانتی ہو یعنی حضرت عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھتی ہوں۔اللہ کی قسم ! میں نے ان میں خیر ہی دیکھی ہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اب یہی زینب وہ تھیں جو میرا مقابلہ کیا کرتی تھیں اور اللہ نے انہیں پر ہیز گاری کی وجہ سے بچالیا۔251 یہ صحیح بخاری کی ایک لمبی روایت ہے۔اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑ نا حسن اخلاق میں داخل ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ” خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ و استغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔اط اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَ ليَعْفُوا وَ ليَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رحیم (النور:23) تب حضرت ابو بکرؓ نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگادی۔“حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ” اسی بنا پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑنا حسن اخلاق میں داخل ہے۔مثلاً اگر کوئی اپنے خدمت گار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تضرع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق باخلاق اللہ ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں۔ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک و عید پر نہیں۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے کہ وعدہ کیا ہے اور وعید کیا ہے اور وہ پہلے بھی ایک دفعہ بیان ہو چکا ہے۔252" 253