اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 92

حاب بدر جلد 2 92 حضرت ابو بکر صدیق جاتے۔آپ نے ایک غزوہ میں ہمارے درمیان قرعہ ڈالا جو آپ صلی اللہ کریم نے کیا تھا تو حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرا قرعہ نکلا۔میں آپ کے ساتھ گئی حجاب کے حکم کے نازل ہونے کے بعد۔کہتی ہیں میں ہو دج میں اٹھائی جاتی اور اسی میں اتاری جاتی۔ہم چلتے رہے یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللی کام اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور واپس تشریف لائے اور ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو ایک رات آپ صلی علیہم نے کوچ کا حکم فرمایا۔میں کھڑی ہوئی جب لوگوں نے کوچ کا اعلان کیا۔پھر میں چل پڑی یہاں تک کہ لشکر سے آگے نکل گئی۔پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی تو ہو رج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا اظفار کے نگینوں کا ہار ٹوٹ کر گر گیا ہے۔بہر حال کہتی ہیں میں واپس گئی اور اپنا بار ڈھونڈنے لگی۔اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا اور وہ لوگ آئے جو میری سواری کو تیار کرتے تھے جس پر میں ہودج میں بیٹھتی تھی۔اور انہوں نے میر اہو دج اٹھایا اور اسے میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی۔کہتی ہیں کہ انہوں نے سمجھا کہ میں اس میں ہوں کیونکہ عورتیں ان دنوں میں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں اور ان پر زیادہ گوشت نہ ہو تا تھا اور وہ تھوڑا سا ہی کھانا کھایا کرتی تھیں۔بہر حال لوگوں نے جب اسے اٹھایا تو ہو دج کے بوجھ کو غیر معمولی نہ سمجھا۔انہوں نے اس کو اٹھایا اور میں کم عمر لڑکی تھی۔انہوں نے اونٹ کو اٹھایا اور چل پڑے اور میں نے اپنا ہار پالیا بعد اس کے کہ لشکر چلا گیا۔میں ان کے پڑاؤ پر آئی اور وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔پھر میں اپنے پڑاؤ کی طرف گئی جس میں میں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے تو میرے پاس واپس آئیں گے۔اس حال میں کہ میں بیٹھی ہوئی تھی میری آنکھ لگ گئی اور میں سوگئی۔صفوان بن مُعَظَل سُلّمي ذكواني لشکر کے پیچھے تھے۔وہ صبح میرے پڑاؤ پر آئے اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا وجو دیکھا۔وہ میرے پاس آئے اور حجاب کے حکم سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔میں ان کے انا للہ پڑھنے پر جاگ اٹھی۔جب انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی تو انہوں نے اس اونٹنی کا پاؤں موڑا اور جب وہ اونٹنی بیٹھ گئی تو میں اس پر سوار ہو گئی۔اور میری سواری کو لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچے بعد اس کے کہ لوگ ٹھیک دو پہر کے وقت آرام کرنے کے لیے پڑاؤ کیسے ہوئے تھے۔پھر جس کو ہلاک ہو نا تھا وہ ہلاک ہو گیا اور اس افک کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔ہم مدینہ پہنچے۔میں وہاں ایک ماہ بیمار رہی اور لوگ انک لگانے والوں کی باتوں میں لگے رہے اور میری بیماری میں یہ بات مجھے بے چین کرتی کہ میں نبی صلی الی یکم سے وہ مہربانی نہ دیکھتی جو میں آپ سے دیکھتی تھی جب میں بیمار ہوتی۔آپ اندر تشریف لاتے اور سلام کہتے۔پھر فرماتے تم کیسی ہو ؟ مجھے اس واقعہ کا یعنی واقعہ افک کا کچھ بھی علم نہ تھا یہاں تک کہ جب میں کمزور ہو گئی تو میں اور ام مسطح مناصبع کی طرف گئیں جو ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ہم نہ نکلتے مگر رات سے رات تک، رات کا انتظار کیا کرتے تھے، اور یہ اس سے پہلے کی بات ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلا بنائے تھے۔گھروں میں اس وقت بیوت الخلا نہیں ہوتے تھے۔بہر حال کہتی ہیں اس سے قبل ہماری حالت پہلے عربوں کی سی تھی جو جنگل