اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 91

اصحاب بدر جلد 2 91 حضرت ابو بکر صدیق لوٹا کر واپس لے گیا کہ اس سال قحط بہت ہے اور لوگوں کو تنگی ہے اس لئے اس وقت لڑنا ٹھیک نہیں ہے۔جب کشائش ہو گی تو زیادہ تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کریں گے۔اسلامی لشکر آٹھ دن تک بدر میں ٹھہرا اور چونکہ وہاں ماہ ذو قعدہ کے شروع میں ہر سال میلہ لگا کرتا تھا۔جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ) تو ان ایام میں بہت سے صحابیوں نے اس میلہ میں تجارت کر کے کافی نفع کمایا۔حتی کہ انہوں نے اس آٹھ روزہ تجارت میں اپنے راس المال کو دو گنا کر لیا۔جب میلے کا اختتام ہو گیا اور لشکر قریش نہ آیا تو آنحضرت صلی علیکم بدر سے کوچ کر کے مدینہ میں واپس تشریف لے آئے اور قریش نے مکہ میں واپس پہنچ کر مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ غزوہ غزوہ بدد الموعد کہلاتا ہے۔غَرْوهُ بَنُو مُصْطَلِق 247 246" غزوہ بَنُو مُصْطَلِق ایک ہے جو شعبان 15 ہجری میں ہوا۔غزوہ بنو مصطلق کا دوسرا نام غزوۂ مریسیع بھی ہے۔بنو مُصْطَلِق خُزاعہ کی شاخ تھی۔یہ قبیلہ ایک کنویں کے پاس رہتا تھا جس کو مریسیع کہتے تھے۔248 یہ فرغ سے ایک یوم کی مسافت پر تھا اور فرغ اور مدینہ کے درمیان قریباً 6 9 میل کا فاصلہ تھا۔علامہ ابن اسحاق کے نزدیک غزوہ بنو مصطلق 16 ہجری میں ہوا جبکہ موسیٰ بن عقبہ کے نزدیک 14 ہجری میں ہوا اور واقدی کہتا ہے کہ یہ غزوہ شعبان 15 ہجری میں ہوا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کو 15 ہجری کا ہی لکھا ہے۔بہر حال جب نبی کریم صلی علیہ کم تک یہ بات پہنچی کہ قبیلہ بنو مصطلق نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی العلیم نے ان کی طرف شعبان 15 ہجری میں سات سو اصحاب کے ساتھ پیش قدمی فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ تم نے مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابو بکر کے سپرد فرمایا۔ایک دوسری روایت کے مطابق آپ نے مہاجرین کا جھنڈا حضرت عمار بن یاسر کو دیا اور انصار کا جھنڈ ا حضرت سعد بن عبادہ کے سپر د فرمایا۔واقعہ افک 249 اس کے بارے میں جو تفصیل ہے وہ اس طرح ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر حضرت عائشہ بنت حضرت ابو بکر پر منافقین کی طرف سے تہمت لگائی گئی۔250 یہ واقعہ تاریخ میں واقعہ افک کے نام سے معروف ہے۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے۔یہ روایت گو کہ ایک صحابی کے ضمن میں پہلے بیان ہو چکی ہے۔لیکن یہاں حضرت ابو بکر کے حوالے سے بھی بیان کر ناضروری ہے۔رسول اللہ صلی علی یکم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی ازواج مطہرات کے در میان قرعہ ڈالتے حضرت عائشہ سے یہ روایت ہے، اور پھر جس کا قرعہ نکلتا آپ اس کو اپنے ساتھ لے