اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 76

حاب بدر جلد 2 76 حضرت ابو بکر کی بہادری۔۔۔حضرت علی کی گواہی حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر صدیق کی بہادری کے بارے میں حضرت علی سے ایک روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ کے ایک گروہ سے پوچھا کہ مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہادر شخص کے متعلق بتاؤ۔حضرت علی نے پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ آپ یعنی حضرت علی حضرت علی نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابو بکر نہیں۔جب بدر کا دن تھا ہم نے رسول اللہ صلی علیم کے لیے سائبان تیار کیا۔پھر ہم نے کہا کہ کون ہے جو رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ رہے تا کہ آپ صلی یی کم تک کوئی مشرک نہ پہنچ پائے تو اللہ کی قسم! ہم میں سے کوئی آپ صلی اسلام کے قریب نہ گیا مگر حضرت ابو بکر تلوار کو سونتے ہوئے رسول اللہ صلی اللی کام کے سر کے پاس کھڑے ہو گئے کہ رسول اللہ صلی علی کیم کے پاس کوئی مشرک نہیں پہنچے گا مگر پہلے وہ ابو بکر سے مقابلہ کرے گا۔216 اس ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ صحابہ میں سب سے زیادہ بہادر اور دلیر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور پھر انہوں نے کہا کہ جنگ بدر میں جب رسول کریم صلی علیم کے لئے ایک علیحدہ چبوترہ بنایا گیا تو اس وقت سوال پیدا ہوا کہ آج رسول کریم صلی علیم کی حفاظت کا کام کس کے سپر د کیا جائے۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فوراً ننگی تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس انتہائی خطرہ کے موقع پر نہایت دلیری کے ساتھ آپ کی حفاظت کا فرض سر انجام دیا۔“217 خیمہ میں نبی اکرم صلی ا کرم کی مقبول دعائیں حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ نبی صلی الم نے فرمایا اور آپ بدر کے دن ایک بڑے خیمے میں تھے کہ اللهُمَّ إِنِّي أَنْشُرُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدُ بَعْدَ الْيَوْمِ کہ اے میرے اللہ ! میں تجھے تیرے ہی عہد اور تیرے ہی وعدے کی قسم دیتا ہوں۔اے میرے رب ! اگر تو ہی مسلمانوں کی تباہی چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔اتنے میں حضرت ابو بکڑ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور انہوں نے کہا یارسول اللہ بس کیجیے۔آپ نے اپنے رب سے دعامانگنے میں بہت اصرار کر لیا ہے اور آپ زرہ پہنے ہوئے تھے۔آپ خیمہ سے نکلے اور آپ یہ پڑھ رہے تھے: سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ أدهى وَآمَرُ (القمر 46-47) عنقریب یہ سب کے سب شکست کھا جائیں گے اور پیٹھ پھیر دیں گے اور یہی وہ گھڑی ہے جس سے ڈرائے گئے تھے اور یہ گھڑی نہایت سخت اور نہایت تلخ ہے۔218 91791 حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے بیان کیا کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی الم نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو انیس تھے۔اللہ کے نبی صلی ا ہم نے قبلہ کی طرف منہ کیا۔پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب کو بلند آواز سے