اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 69

اصحاب بدر جلد 2 69 حضرت ابو بکر صدیق اصل شہر سے دواڑھائی میل کے فاصلہ پر تھی اور جس کا نام قبا تھا تشریف لے گئے۔اس جگہ انصار کے بعض خاندان آباد تھے جن میں زیادہ ممتاز عمر و بن عوف کا خاندان تھا اور اس زمانہ میں اس خاندان کے رئیس کلثوم بن الہدم تھے۔قبا کے انصار نے آپ کا نہایت پر تپاک استقبال کیا اور آپ کلثوم بن الہدم کے مکان پر فروکش ہو گئے۔وہ مہاجرین جو آپ سے پہلے مدینہ پہنچ گئے ہوئے تھے وہ بھی اس وقت تک زیادہ تر قبا میں کلثوم بن الہدم اور دوسرے معززین انصار کے پاس مقیم تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے سب سے پہلے قبا میں قیام کرنا پسند فرمایا۔ایک آن کی آن میں سارے مدینہ میں آپ کی آمد کی خبر پھیل گئی اور تمام مسلمان جوش مسرت میں بیتاب ہو کر جوق در جوق آپ کی فرود گاہ پر جمع ہونے شروع ہو گئے۔1896 مسجد قبا کی تعمیر 190 مسجد قبا کی تعمیر کے بارے میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی للہ ہم نے قبامیں قیام کے دوران ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی جسے مسجد قبا کہا جاتا ہے۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی علی کم بنو عمر و بن عوف کے محلے میں دس سے زائد راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیادر کھی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول اللہ صلی ا ولم نے نماز پڑھی۔روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے بنو عمرو بن عوف کے لیے مسجد کی بنیاد رکھی۔جب آپ صلی علیہ ہم نے اس کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے آپ نے قبلے کی سمت ایک پتھر رکھا۔پھر حضرت ابو بکر نے ایک پتھر لا کر رکھا۔پھر حضرت عمرؓ ایک پتھر لے کر آئے اور حضرت ابو بکر کے پتھر کے ساتھ رکھ دیا۔پھر تمام لوگ تعمیر میں مصروف ہو گئے۔جب مسجد قبا کی تعمیر ہورہی تھی تو نبی کریم صلی الی یکم ایک پتھر لاتے جسے آپ نے اپنے پیٹ کے ساتھ لگایا ہوا ہوتا۔بڑا بھاری پتھر ہوتا۔پھر آپ اس پتھر کو رکھتے۔کوئی شخص آتا اور چاہتا کہ اس پتھر کو اٹھائے مگر وہ اٹھا نہ سکتا۔اس پر آپ اسے حکم دیتے کہ اسے چھوڑ دو اور کوئی اور پتھر نے آؤ۔191 مسجد قبا کے متعلق آتا ہے کہ یہی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی مگر بعض روایات میں مسجد نبوی کو وہ مسجد قرار دیا گیا ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی۔سیرت حلبیہ میں ذکر ہے کہ ان دونوں اقوال میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ ان دونوں مساجد میں سے ہر ایک کی بنیاد تقویٰ پر ہی رکھی گئی۔اس بات کی تائید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔اس روایت کے مطابق ان کی رائے تھی کہ مدینہ کی تمام مساجد جس میں قبا کی مسجد بھی شامل ہے اس کی بنیاد تقویٰ پر ہی رکھی گئی ہے لیکن جس کے متعلق آیت نازل ہوئی تھی وہ مسجد قباہی ہے۔قبا سے مدینہ 192 دس دن یا چودہ دن قیام کے بعد جمعہ کے دن نبی کریم صل اللہ تم ابا سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔